(پینتیس اقساط پر مشتمل سریز جو بچوں اور نئے سیکھنے والوں کو انتہائی آسان انداز میں اے آئی کی دنیا سے متعارف کرائے گی)
قسط نمبر 16: نیورل نیٹ ورک کیا ہے؟
گزشتہ قسط میں ہم نے جانا کہ انڈر فٹنگ کیا ہوتی ہے ،یعنی جب مشین کچھ خاص سیکھ ہی نہیں پاتی۔
اب ہم ایک ایسے تصور کو سمجھنے جا رہے ہیں جو نہ صرف مشین لرننگ بلکہ جدید مصنوعی ذہانت کی بنیاد ہے:
نیورل نیٹ ورک۔
چلیے انسان کے دماغ سے شروع کرتے ہیں۔
ہمارے دماغ میں لاکھوں کروڑوں ننھے خلیے ہوتے ہیں جنہیں "نیورون" کہتے ہیں۔
یہ نیورون آپس میں جُڑے ہوتے ہیں، پیغامات ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں، معلومات کو ذخیرہ کرتے ہیں، اور فیصلہ سازی میں مدد دیتے ہیں۔
جب آپ چہرہ پہچانتے ہیں، بولتے ہیں، لکھتے ہیں، یا کوئی کام یاد کرتے ہیں ، یہ سب انہی نیورونز کی مدد سے ہوتا ہے۔
سائنسدانوں نے سوچاکہ "اگر انسان کا دماغ نیورونز سے بنتا ہے اور سیکھتا ہے،
تو کیوں نہ ہم بھی کمپیوٹر کو ویسا ہی ایک نیٹ ورک دیں جو نیورونز کی نقل کرے؟"
یہی سوچ نیورل نیٹ ورک کی بنیاد بنی۔
نیورل نیٹ ورک دراصل مشین لرننگ کا ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو انسان کے دماغ کی طرز پر کام کرتا ہے۔
اس میں بھی نیورون جیسے چھوٹے یونٹ ہوتے ہیں جنہیں ہم "نوڈز" کہتے ہیں۔
یہ نوڈز مختلف "لیئرز" یعنی پرتوں میں ہوتے ہیں ایک "انپٹ لیئر"، کچھ "ہِڈن لیئرز"، اور ایک "آؤٹ پٹ لیئر"۔
فرض کریں آپ ایک مشین کو پھل پہچاننا سکھا رہے ہیں۔
جب آپ ایک تصویر دیتے ہیں، تو وہ "انپٹ لیئر" میں جاتی ہے۔
وہاں سے معلومات مختلف "نوڈز" کے درمیان سفر کرتی ہے، ہر نوڈ کچھ حساب کتاب کرتا ہے، کچھ وزن دیتا ہے، کچھ اندازے لگاتا ہے،
یہ سب "ہِڈن لیئرز" میں ہوتا ہے۔
آخر میں جب ساری معلومات "آؤٹ پٹ لیئر" تک پہنچتی ہیں، تو مشین فیصلہ کرتی ہے:
"یہ سیب ہے" یا "یہ آم"۔
ہر نوڈ ایک فیصلہ لیتا ہے، پھر اگلے نوڈ کو اپنی رائے دیتا ہے،
اور یہ سلسلہ تب تک چلتا ہے جب تک آخری نتیجہ نہیں نکلتا۔
یہ نیورل نیٹ ورک جتنا بڑا اور پیچیدہ ہوگا، اتنی ہی بہتر پہچان، فہم اور فیصلہ سازی ممکن ہوگی ۔
لیکن ساتھ ہی زیادہ ڈیٹا اور زیادہ ٹریننگ کی ضرورت بھی ہوگی۔
نیورل نیٹ ورکس کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ یہ خود سے "فیچرز" نکال سکتے ہیں۔
یعنی جہاں پہلے ہمیں مشین کو مخصوص نشانیاں الگ کر کے دینی پڑتی تھیں،
نیورل نیٹ ورک خود سیکھ کر بتاتے ہیں کہ کیا اہم ہے اور کیا نہیں۔
اسی لیے ڈیپ لرننگ ، جو نیورل نیٹ ورکس کی ہی ایک قسم ہے ، آج کی سب سے طاقتور ٹیکنالوجی بن چکی ہے۔
نیورل نیٹ ورک سے ہی وہ سب کچھ ممکن ہوا ہے جسے ہم آج مصنوعی ذہانت کا کمال کہتے ہیں:
چہرہ پہچاننے والے کیمرے، خودکار گاڑیاں، چیٹ بوٹس، ترجمے کی ایپس،
اور یہاں تک کہ وہ نظام جو تصویروں سے مرض کی تشخیص کرتے ہیں۔
لیکن یاد رکھیں: نیورل نیٹ ورک بہت طاقتور ضرور ہیں،
مگر انہیں بنانے، تربیت دینے اور درست ڈیٹا دینے میں محنت، وقت، اور بڑی سمجھداری درکار ہوتی ہے۔
ورنہ وہ یا تو کچھ نہیں سیکھتے (انڈر فٹنگ)، یا سب کچھ یاد کر لیتے ہیں مگر کچھ نہیں سمجھتے (اوور فٹنگ)۔
آج کی قسط میں ہم نے سیکھا کہ نیورل نیٹ ورک وہ ذہنی ڈھانچہ ہے جو مشین کو انسان جیسی سیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔یہ ایک ایسا جال ہے جو معلومات کو گزار کر، چھان کر، اور تول کر ہمیں صحیح نتیجہ دیتا ہے۔
اگلی قسط میں ہم ایک قدم مزید آگے بڑھائیں گے اور دیکھیں گے کہ ایک "نیورون" خود کیسے کام کرتا ہے، یعنی نیورل نیٹ ورک کا ایک چھوٹا سا دماغ کس طرح فیصلہ لیتا ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔ اس کی تمام اقساط آپ (#AiKiDuniyaKidsSeries) ہیش ٹیگ پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔