(پینتیس اقساط پر مشتمل سریز جو بچوں اور نئے سیکھنے والوں کو انتہائی آسان انداز میں اے آئی کی دنیا سے متعارف کرائے گی)
قسط نمبر 17: ایک نیورون کیسے کام کرتا ہے؟
پچھلی قسط میں ہم نے نیورل نیٹ ورک کے بارے میں جانا ۔یعنی وہ ذہین نیٹ ورک جو انسان کے دماغ کی طرز پر کام کرتا ہے۔
آج ہم اس نیٹ ورک کے سب سے چھوٹے، مگر سب سے اہم جز پر بات کریں گے: نیورون۔
یہ وہ ننھا یونٹ ہے جو سیکھنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی اصل بنیاد رکھتا ہے۔
فرض کریں آپ کے دوست نے آپ سے کہا:
"آج پارک چلیں؟"
آپ فوراً سوچنے لگتے ہیں:
کیا موسم اچھا ہے؟ کیا میرے پاس وقت ہے؟ کیا پارک قریب ہے؟
آپ ان سب باتوں کو ذہن میں رکھ کر ایک فیصلہ لیتے ہیں: ہاں یا نہ۔
یہی کام ایک نیورون بھی کرتا ہے۔
نیورون کمپیوٹر کی دنیا میں ایک چھوٹا سا فیصلہ ساز ہوتا ہے۔
اس کے پاس کچھ "ان پٹ" آتے ہیں ،یعنی معلومات، جیسے موسم، وقت، فاصلہ۔
پھر وہ ہر ان پٹ کو ایک "وزن" دیتا ہے ،یعنی کتنی اہمیت دینی ہے؟
مثلاً موسم کو زیادہ اہمیت، فاصلے کو تھوڑی کم۔
یہ سب وزن ملا کر نیورون ایک مجموعہ بناتا ہے۔
پھر ایک خاص عمل سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ آگے کیا پیغام بھیجنا ہے؟
مثلاً "پارک چلیں" یا "نہ چلیں"۔
اسی کو ہم نیورون کا آؤٹ پٹ کہتے ہیں۔
مشین لرننگ میں نیورون کے پاس تین اہم چیزیں ہوتی ہیں:
1. ان پٹ ،معلومات جیسے کسی پھل کی رنگت، شکل یا وزن
2. ویٹس (وزن) ،ہر ان پٹ کی اہمیت کتنی ہے؟
3. بائِیس ،ایک اضافی عنصر جو تھوڑا سا جھکاؤ پیدا کرتا ہے
4. ایکٹیویشن فنکشن ،ایک خاص فارمولا جو فیصلہ لیتا ہے کہ نیورون "چالو" ہو یا نہ ہو
یہ سارا عمل بالکل ویسا ہے جیسے دماغ کسی چیز پر غور کر کے فیصلہ لیتا ہے۔
اگر نیورون سمجھتا ہے کہ "ہاں، یہ تصویر ایک سیب کی ہے" تو وہ سگنل آگے بھیجتا ہے۔
اگر وہ مطمئن نہ ہو تو خاموش ہو جاتا ہے۔
جب سیکڑوں یا ہزاروں نیورون ایک ساتھ، ترتیب سے، مختلف پرتوں (لیئرز) میں کام کریں ،
تو وہ ایک نیورل نیٹ ورک بن جاتے ہیں۔
ہر نیورون چھوٹا سا فیصلہ لیتا ہے، لیکن مل کر وہ ایک بڑا، ذہین فیصلہ کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب ہم تصویر دیتے ہیں تو ایک نیورون رنگ دیکھتا ہے، دوسرا شکل، تیسرا کناروں کو پہچانتا ہے۔
پھر سب کے فیصلے مل کر بتاتے ہیں کہ تصویر میں کیا ہے۔
اور یہ نیورونز صرف تصویروں کے لیے نہیں ،
یہ آواز، الفاظ، چہروں، حرکات، حتیٰ کہ جذبات کو بھی سمجھ سکتے ہیں ،
اگر ان کی تربیت صحیح ہو۔
آج کی قسط میں ہم نے سیکھا کہ نیورون ایک چھوٹا مگر فیصلہ کن حصہ ہے،
جو معلومات کو تولتا ہے، وزن دیتا ہے، اور آخر میں ایک نتیجہ نکالتا ہے۔
یہی نیورون جب ہزاروں کی تعداد میں جڑتے ہیں تو مشین میں "دماغ" بن جاتا ہے۔
اگلی قسط میں ہم بات کریں گے: ایک لیئر کیا ہوتی ہے؟
اور کیسے نیورونز کی پرتیں مل کر نیٹ ورک کی طاقت بڑھاتی ہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔ اس کی تمام اقساط آپ (#AiKiDuniyaKidsSeries) ہیش ٹیگ پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔