(پینتیس اقساط پر مشتمل سیریز جو بچوں اور نئے سیکھنے والوں کو انتہائی آسان انداز میں اے آئی کی دنیا سے متعارف کرائے گی)
قسط نمبر 22: روبوٹس اور لرننگ
پچھلی قسط میں ہم نے سیکھا کہ مشینیں انسانوں کی آواز کیسے سن کر اسے سمجھتی اور جواب دیتی ہیں۔
آج ہم اس سے بھی ایک قدم آگے جائیں گے۔صرف سننے، دیکھنے یا سوچنے کی صلاحیت نہیں ،
بلکہ چلنے، پکڑنے، حرکت کرنے اور عمل کرنے کی طاقت۔
ہم بات کر رہے ہیں روبوٹس کی دنیا اور یہ جانیں گے کہ روبوٹ سیکھتے کیسے ہیں؟
چلیے ایک کہانی سے آغاز کرتے ہیں۔
ایک بچہ پہلی بار چمچ پکڑتا ہے، ہاتھ کانپتا ہے، گر بھی جاتا ہے، ماں ہنس کر دوبارہ دیتی ہے۔
پھر آہستہ آہستہ وہ سیکھتا ہے کہ چمچ کیسے پکڑنا ہے، کیسے کھانے کو منہ تک لانا ہے، اور کیسے نہ گرانا ہے۔
یہ سیکھنے کا عمل ،مشاہدہ، کوشش، ناکامی اور کامیابی ،یہی ایک روبوٹ بھی کرتا ہے۔
جب ہم روبوٹ کہتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں ایک دھات کا جسم آتا ہے جو بولتا ہے، چلتا ہے اور کام کرتا ہے۔لیکن دراصل روبوٹ وہ مشین ہے جسے ہم نے جسم کے ساتھ "دماغ" بھی دیا ہو ،
یعنی جو فیصلہ بھی کر سکے اور عمل بھی۔اب سوال یہ ہے،روبوٹ سیکھتے کیسے ہیں؟
ان میں انسانی جیسی حرکتوں اور سمجھ کو کیسے شامل کیا جاتا ہے؟
آئیں مرحلہ وار سمجھتے ہیں:
1. سینسرز (Sensors) ،روبوٹ کی آنکھ، کان اور جلد
روبوٹ کو دنیا سے جوڑنے کے لیے سینسرز دیے جاتے ہیں:
• کیمرہ: دیکھنے کے لیے
• مائیک: سننے کے لیے
• پریشر یا لمس کے سینسر: چھونے کے لیے
• جی پی ایس: راستہ پہچاننے کے لیے
یہ سب معلومات نیورل نیٹ ورک کو جاتی ہیں ،جیسے انسان کا دماغ حواس سے سیکھتا ہے۔
2. مشین لرننگ ،دماغ کا نظام
اب روبوٹ کو معلومات دی جاتی ہیں
مثلاً دروازہ کھولنے کا طریقہ، سیڑھیاں چڑھنے کا سلیقہ، چیزیں اٹھانے کا توازن۔
یہ سیکھنے کے لیے روبوٹ "سینسرز" سے ڈیٹا لیتا ہے،
پھر نیورل نیٹ ورک یا ری انفورسمنٹ لرننگ سے فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا عمل بہتر ہے۔
3. ری انفورسمنٹ لرننگ ،انعام اور سزا سے سیکھنا، بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے قسط نمبر 7 میں سیکھا تھا،
روبوٹ اگر کوئی چیز صحیح طریقے سے اٹھاتا ہے تو اسے "انعام" ملتا ہے،اگر گرائے تو "سزا" ،جیسے کوئی پوائنٹ کم ہو جائے۔جیسے اگر، روبوٹ نے بال پکڑنے کی کوشش کی، بال نیچے گر گئی ،اگلی بار وہ گرفت مضبوط کرے گا۔
4. حرکت کا کنٹرول (Motion Planning)
روبوٹ صرف فیصلہ ہی نہیں لیتا، بلکہ اپنے جسم کے ہر جوڑ (joint) کو چلاتا ہے۔
مثلاً ایک ہاتھ کو آگے بڑھانا، دوسرا نیچے، اور انگلیوں کو بند کرنا ،
یہ سب ایک ترتیب سے، نہایت احتیاط سے ہوتا ہے۔
یہ کام "کنٹرول الگورتھمز" سے لیا جاتا ہے، جو روبوٹ کو بتاتے ہیں کہ کیسے حرکت کرنی ہے،
کب رکنا ہے، اور کیسے خود کو توازن میں رکھنا ہے۔
5. سیکھنا اور بہتر ہونا ،وقت کے ساتھ ترقی
روبوٹ روز بروز بہتر ہوتا جاتا ہے
آج چیزیں گراتا ہے، کل تھام لیتا ہے،
آج ٹکر مارتا ہے، کل رک جاتا ہے۔
یہی سیکھنے کا اصل حسن ہے ،جیسے بچہ روز نئی بات سیکھتا ہے۔
حقیقی دنیا میں روبوٹس کہاں کہاں سیکھ رہے ہیں؟
• فیکٹری میں کام کرنے والے روبوٹس ،جو خود بخود پیچ کس لگا دیتے ہیں
• سرجری کرنے والے روبوٹس ،جو ڈاکٹر کی مدد سے جسم کے نازک حصے چیرتے ہیں
• گودام کے روبوٹس ،جو سامان کو خود تلاش کر کے صحیح جگہ پر رکھتے ہیں
• انسان نما روبوٹس ،جیسے "صوفیہ"، جو بات بھی کرتی ہے، ہنستی بھی ہے، اور چہرہ بھی پہچانتی ہے
• روبوٹ پالتو جانور ،جو بچوں کے ساتھ کھیلتے، بیٹھتے، ہلتے ہیں
آج ہم نے سیکھا کہ روبوٹس وہ جسمانی مشینیں ہیں جو سیکھنے، حرکت کرنے اور فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتی ہیں ،
اور یہ سب کچھ ممکن ہوتا ہے سینسرز، نیورل نیٹ ورکس، مشین لرننگ اور مسلسل مشق کے ذریعے۔
اگلی چند اقساط تھوڑی زیادہ ٹیکنکل ہونگی تاہم ہم کوشش کریں گے کہ انہیں بھی اسی طرح عام فہم انداز میں سمجھا سکیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔ اس کی تمام اقساط آپ (#AiKiDuniyaKidsSeries) ہیش ٹیگ پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔