(پینتیس اقساط پر مشتمل سیریز جو بچوں اور نئے سیکھنے والوں کو انتہائی آسان انداز میں اے آئی کی دنیا سے متعارف کرائے گی)
قسط نمبر 24 : ڈیسیژن ٹری کیا ہوتا ہے؟
جب کوئی ہم سے سوال کرتا ہے، تو ہم سوچنے لگتے ہیں کہ اگر ایسا ہو تو یہ کروں، اگر ویسا ہو تو وہ۔ جیسے اگر بارش ہو رہی ہو تو چھتری لے لوں، اگر نہ ہو تو سائیکل پر جاؤں۔ اسی طرح کے سوچنے کے عمل کو مشینیں بھی استعمال کرتی ہیں، اور اس کے لیے جو طریقہ استعمال ہوتا ہے، اسے کہتے ہیں "ڈیسیژن ٹری"۔ یعنی ایک ایسا درخت جو سوالوں کی شاخوں سے بنا ہوتا ہے اور ہر شاخ پر ایک فیصلہ ہوتا ہے۔
تصور کریں کہ آپ کے سامنے ایک درخت ہے۔ اس کی جڑ سے ایک سوال نکلتا ہےکہ "کیا یہ جانور ہے؟" اگر ہاں، تو ایک شاخ اوپر جاتی ہےکہ "کیا یہ پالتو ہے؟" پھر ایک اور شاخ کہ "کیا یہ بلی ہے یا کتا؟" اور اگر جواب "نہیں" ہو تو دوسری طرف ایک نئی شاخ نکلتی ہے کہ "کیا یہ پودا ہے؟" اور پھر وہ درخت آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہی ہے ڈیسیژن ٹری ،ہر شاخ پر ایک سوال، ہر پتّے پر ایک جواب۔
یہ طریقہ نہایت فطری ہے، کیونکہ انسان بھی اسی طرح سوچتا ہے۔ بچے جب پہلی بار چیزوں کو سیکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں یہی درخت بنتا ہے کہ اگر یہ چیز گول ہے، لال ہے، میٹھی ہے، تو شاید سیب ہے۔ مشین کو بھی ہم یہی سکھاتے ہیں، مگر وہ سیکھتی ہے ڈیٹا سے۔ یعنی ہزاروں مثالیں دیکھ کر، کہ کن کن خصوصیات پر کون سا فیصلہ لیا گیا۔
ڈیسیژن ٹری کی خاص بات یہ ہے کہ یہ "اگر-تو" کے اصولوں پر کام کرتا ہے۔ مشین کو سکھایا جاتا ہے کہ اگر فلاں فیچر یوں ہو، تو یہ کرو۔ یہ اس وقت بہت فائدہ مند ہوتا ہے جب ڈیٹا صاف ہو اور فیصلے نسبتاً سیدھے ہوں۔ جیسے: اگر درجہ حرارت زیادہ ہے اور ہوا نمی سے خالی ہے، تو شاید بارش نہیں ہوگی۔
یہ درخت تب بنتا ہے جب مشین لرننگ کا ماڈل ڈیٹا کو کئی بار پڑھتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ سب سے اہم سوال کون سا ہے جو پہلی شاخ پر ہونا چاہیے۔ پھر آہستہ آہستہ باقی شاخیں بنتی جاتی ہیں، یہاں تک کہ ہر شاخ کے آخر میں ایک پتّا ہوتا ہے، یعنی فیصلہ۔
ڈیسیژن ٹری کا استعمال بہت سی جگہوں پر کیا جاتا ہے، جیسے بیماری کی تشخیص، قرض دینے کے فیصلے، کسٹمر کے رویے کو سمجھنا، یا یہاں تک کہ یہ جاننا کہ کوئی طالبعلم کس شعبے میں بہتر کارکردگی دکھائے گا۔ اس ماڈل کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ شفاف ہوتا ہے، مطلب ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ مشین نے کس سوال کے جواب پر کون سا فیصلہ لیا۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جب ڈیٹا بہت زیادہ ہو، یا بہت پیچیدہ ہو، تو ایک ڈیسیژن ٹری کافی نہیں ہوتا۔ تب کئی درختوں کو ملا کر ایک "فارسٹ" بنا دیا جاتا ہے، جسے "رینڈم فارسٹ" کہتے ہیں، آج کے لیے، یہ سمجھ لینا کافی ہے کہ ایک ڈیسیژن ٹری ایک سمجھ دار، سوال پوچھنے والا درخت ہوتا ہے، جو ہمیں قدم بہ قدم صحیح جواب کی طرف لے جاتا ہے۔
تو آج کی قسط میں ہم نے سیکھا کہ ڈیسیژن ٹری مشین کو کس طرح اگر-تو کی بنیاد پر فیصلہ سازی کا سادہ اور شفاف طریقہ سکھاتا ہے، اور یہ انسانی دماغ کے فطری انداز سے بہت مشابہ ہوتا ہے۔
اگلی قسط میں ہم سیکھیں گے "کلسٹرنگ" کے بارے میں ،یعنی جب مشین خود سے گروپ بنانا سیکھتی ہے، بغیر بتائے کہ کون کس گروپ میں آتا ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔ اس کی تمام اقساط آپ (#AiKiDuniyaKidsSeries) ہیش ٹیگ پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔