(پینتیس اقساط پر مشتمل سیریز جو بچوں اور نئے سیکھنے والوں کو انتہائی آسان انداز میں اے آئی کی دنیا سے متعارف کرائے گی)
قسط نمبر :26 ریگریشن کیا ہوتی ہے
ہم سب کبھی نہ کبھی اندازے لگاتے ہیں۔ اگر آسمان پر کالے بادل ہوں، ہوا تھوڑی تیز ہو، اور پرندے نیچے اُڑ رہے ہوں، تو ہم کہہ دیتے ہیں کہ "لگتا ہے بارش ہونے والی ہے۔" یہ اندازہ ہمارے تجربے، مشاہدے اور یادداشت پر مبنی ہوتا ہے۔ ہم حال کی معلومات کو استعمال کر کے مستقبل کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ مشین بھی یہی کام سیکھ سکتی ہے، اور جب وہ ایسا کرتی ہے تو اسے "ریگریشن" کہا جاتا ہے۔
ریگریشن مشین لرننگ کا وہ طریقہ ہے جو مشین کو "پیش گوئی" کرنا سکھاتا ہے۔ یعنی جب مشین کسی چیز کی قیمت، مقدار، درجہ حرارت یا کسی بھی مسلسل چیز کا اندازہ لگاتی ہے تو وہ ریگریشن کر رہی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مشین غیب جانتی ہے، بلکہ وہ پرانے ڈیٹا سے سیکھتی ہے اور اس سیکھے ہوئے علم سے اگلی ویلیو کا اندازہ لگاتی ہے۔
فرض کریں کہ اگر آپ کے پاس پانچ سال کا ڈیٹا ہو کہ ہر سال آم کتنے روپے میں بکا، تو آپ اس ڈیٹا سے سیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگلے سال آم کی قیمت کیا ہو گی۔ مشین بھی یہی کرتی ہے۔ وہ پرانے ڈیٹا میں "پیٹرن" تلاش کرتی ہے ،جیسے قیمت ہر سال تھوڑا تھوڑا بڑھ رہی ہے ،اور اسی پیٹرن کو استعمال کر کے اگلے سال کی قیمت کا اندازہ لگاتی ہے۔
ریگریشن دراصل دو چیزوں کے درمیان تعلق کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ جیسے درجہ حرارت اور آئس کریم کی فروخت ،جتنی زیادہ گرمی، اتنی زیادہ فروخت۔ یا جتنا زیادہ پڑھائی کا وقت، اتنے اچھے نمبر۔ مشین ان دو چیزوں کے درمیان رشتہ بناتی ہے، اور پھر جب صرف ایک چیز معلوم ہو (جیسے درجہ حرارت کی ویلیو)، تو دوسری چیز (جیسے آئس کریم کی فروخت) کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ریگریشن میں سب سے سادہ طریقہ "لینیئر ریگریشن" ہوتا ہے، جس میں مشین دو چیزوں کو ایک سیدھی لکیر سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ دیکھتی ہے کہ ڈیٹا پوائنٹس کس سمت میں بڑھ رہے ہیں، اور پھر ایک ایسی لکیر کھینچتی ہے جو ان کے درمیان بہترین فٹ ہو ،بالکل ویسے جیسے ہم کسی گراف پر ہاتھ سے لائن کھینچتے ہیں تاکہ ڈیٹا کا رجحان سمجھ سکیں۔
اس عمل کے دوران مشین ہر ڈیٹا پوائنٹ سے "غلطی" کی بھی پیمائش کرتی ہے ،یعنی وہ دیکھتی ہے کہ اُس کا اندازہ حقیقت سے کتنا دور تھا۔ پھر وہ اپنی لکیر کو تھوڑا تھوڑا ایڈجسٹ کرتی ہے تاکہ غلطی کم سے کم ہو جائے۔ جیسے جیسے مشین سیکھتی جاتی ہے، اس کے اندازے زیادہ درست ہوتے جاتے ہیں۔
ریگریشن صرف سادہ معاملات کے لیے نہیں، بلکہ بہت پیچیدہ مسائل کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ جیسےکہ اگلے ہفتے اسٹاک مارکیٹ کس سمت جائے گی؟ کسی مریض کا بخار کتنے دن میں ٹھیک ہو گا؟ یا کسی طالبعلم کے اگلے امتحان میں کتنے نمبر آ سکتے ہیں؟ یہ سب اندازے ریگریشن سے ممکن ہوتے ہیں۔
بعض اوقات مشین کو کئی فیچرز دیے جاتے ہیں ،جیسے عمر، قد، خوراک، نیند ،اور اس سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ بتاؤ، یہ شخص کتنے کلو کا ہو سکتا ہے؟ مشین ان سب فیچرز کے باہمی تعلق کو سمجھ کر ایک ایسا ماڈل بناتی ہے جو ہر نئی سچوئیشن میں وزن کا اندازہ لگا سکے۔
تو آج کی قسط میں ہم نے سیکھنے کی کوشش کی کہ ریگریشن وہ طریقہ ہے جس سے مشین پرانے ڈیٹا سے سیکھ کر مستقبل کے لیے اندازے لگاتی ہے۔
اگلی قسط میں ہم جانیں گے اس فن کے بارے میں جس کے ذریعے مشین یہ پہچانتی ہے کہ کب کوئی چیز معمول سے ہٹ کر ہے۔ ،یعنی ہم سیکھیں گے " انوملی ڈیٹیکشن " کے بارے میں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔ اس کی تمام اقساط آپ (#AiKiDuniyaKidsSeries) ہیش ٹیگ پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔