جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

بچوں کو AI سے نہیں، AI پر انحصار سے بچائیں۔

23 نومبر 2025

بچوں کو AI سے نہیں، AI پر انحصار سے بچائیں۔

بچوں کی تربیت کے اس دور میں یہ سب سے اہم سوال بنتا جا رہا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ کیسے اٹھائیں اور اس کے محتاج کیسے نہ بنیں۔ آج کے ماہرین یہ واضح کر رہے ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی جیسے سسٹم سوچتے نہیں بلکہ پیٹرن ملاتے ہیں۔ یہ عمل بظاہر ذہانت لگتا ہے مگر دراصل اندازہ لگانے کی ایک مشینری ہے، اور یہی فرق آنے والے وقت میں بچوں کے ذہنی اور جذباتی ارتقا پر گہرا اثر ڈالے گا۔

والدین کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس نئے ماحول میں رہنمائی دے سکیں جہاں ایک بے چہرہ مشین ہر سوال کا فوری جواب دینے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ ماہرین اسے صفر مزاحمت کا ماحول کہتے ہیں۔ جب بھی بچہ پریشان ہوتا ہے، چیٹ بوٹ فوراً اسے تسلی دیتا ہے، اس کے جذبات کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے، اور کسی مشکل سوچ یا اختلاف کا سامنا نہیں ہونے دیتا۔ انسانی رشتوں میں جو ہلکی سی کشمکش، ٹکراؤ، اور سوال و جواب ذہنی پختگی پیدا کرتے ہیں، وہ سب ایک لمحے میں غائب ہو جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بچے فیصلہ سازی، مسئلہ حل کرنے اور سماجی مہارتیں آہستہ آہستہ الگورتھمز کے سپرد کر رہے ہیں۔ جب ایک مشین ہر لمحے دستیاب ہو، کبھی تھکے نہیں، کبھی اختلاف نہ کرے، تو بچے غیر محسوس طریقے سے اپنی سوچنے کی ذمہ داری اس کے حوالے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس رجحان کو ماہرین کگنیٹو آف لوڈنگ کہتے ہیں، یعنی دماغ اپنا وزن کم کرنے کے لیے سوچ کا کام کسی اور پر ڈال دیتا ہے۔

تحقیقات نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ اسکول کے بچے اور نوعمر لڑکے لڑکیاں ذہانت کے اس نئے شارٹ کٹ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی رپورٹ کے مطابق ہر دس میں سے آٹھ نوجوان تعلیمی کاموں میں اے آئی کا مسلسل استعمال کرتے ہیں۔ وہ معلومات بہت تیزی سے پروسیس کرتے ہیں مگر گہرائی کھو دیتے ہیں۔ ماہرین اسے تیز مگر کم گہرا ذہن کہتے ہیں، جس میں تیزی تو بڑھتی ہے مگر ٹھہر کر سوچنے کی وہ صلاحیت کمزور پڑتی ہے جو اصل ذہانت کی بنیاد ہوتی ہے۔

بچوں کو اس سارے ماحول میں محفوظ رکھنے کے لیے والدین کو خود اے آئی لٹریسی سیکھنی پڑے گی۔ انہیں بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ چیٹ بوٹس رہنمائی کے اوزار ہیں، رشتے نہیں۔ جذبات سنبھالنے، مشکلات برداشت کرنے اور فیصلے کرنے کی طاقت انسان کے اندر سے آتی ہے، مشین سے نہیں۔ اگر بچوں کو یہ بنیادی فرق سمجھا دیا جائے تو وہ اے آئی سے فائدہ بھی اٹھا سکیں گے اور اس کے محتاج بھی نہیں بنیں گے۔

آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیسی دنیا کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ وہ دنیا جہاں معلومات کی کمی نہیں بلکہ حد سے زیادہ فراوانی ہے۔ اصل امتحان یہ نہیں کہ بچوں کے پاس کتنے ٹولز ہیں، اصل امتحان یہ ہے کہ ان کے اندر سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی اپنی قوت کتنی محفوظ رہتی ہے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں