(فارسی سے ایک دعا کا مفہوم)
ایک دوست نے بتایا کہ “اب کوئی چیز حیران نہیں کرتی۔ سب کچھ پہلے دیکھا ہوا لگتا ہے۔”
میں نے پوچھا: “کہاں دیکھا؟”
اس نے موبائل اسکرین کی طرف اشارہ کیا۔
یہ چھوٹا سا مکالمہ اس بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں ہم سب جی رہے ہیں ،ایک ایسی دنیا جہاں حیرت اب ڈسپلے پر منحصر ہے، تجربے پر نہیں۔ اور یہی ہے آج کی دلچسپ بات” مصنوعی ذہانت اور حیرت کا زوال”۔
ہماری نسل نے عجوبے اپنی آنکھوں کانوں سے دیکھے،سنے،کبھی جھیل کے کنارے، کبھی پرانے ریڈیو پر، کبھی کسی بزرگ کی کہانی میں۔ لیکن آج کا نوجوان ہر چیز AI سے “پیشگوئی” کی صورت میں جان لیتا ہے۔ آنے والی فلم کی کہانی، کسی نئی ایجاد کا مقصد، یہاں تک کہ کسی تعلق کے انجام تک کا تجزیہ۔ سب کچھ پہلے ہی ایک “پریڈکٹڈ” فیچر کی صورت سامنے آ چکا ہوتا ہے۔ تو پھر حیرت کہاں بچے گی؟
اے آئی کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہ ہمیں بہتر اندازہ لگانے میں مدد دیتا ہے،مگر اس کی سب سے بڑی خامی بھی یہی ہے کہ یہ “غلطی” کو تقریبا”ختم کر دیتا ہے۔ اور جہاں غلطی نہیں، وہاں حیرت بھی نہیں اور سیکھنا بھی نہیں۔ کیوں کہ بعض اوقات غلطی ہی وہ دروازہ ہوتی ہے جس سے تخلیق، تجسس اور کمالات ہوگزرتے ہیں۔
حیرت وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہمیں کوئی نئی بات اچانک معلوم ہو، جس کی ہمیں توقع نہ ہو۔ جیسے کوئی پرانا دوست اچانک سامنے آ جائے اور ہم خوشگوار حیرت میں ڈوب جائیں، یا کوئی بات پہلی بار دل کو چھو جائے۔ یہ تجربہ سوچ سمجھ کر نہیں آتا، یہ دل سے محسوس ہوتا ہے۔
لیکن جب AI ہمیں پہلے ہی بتا دیتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے، یا کون سا چہرہ کس جذبے کے ساتھ جڑا ہوا ہے، تو ہم خود محسوس کرنے کے بجائے صرف اس کی بتائی ہوئی بات پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ یوں ہم آہستہ آہستہ حیرت محسوس کرنے، چیزوں کا خود اندازہ لگانے، یا کسی بات کو دل سے جاننے کی صلاحیت کھونے لگتے ہیں۔
یعنی مشینیں ہماری آسانی کے لیے جو کچھ کرتی ہیں، وہ شاید ٹھیک ہو، مگر اس کے بدلے میں ہم وہ انسانوں والی اندرونی حساسیت کھوتے جا رہے ہیں، جو ہمیں ایک لمحے کو خاص، نیا اور یادگار بناتی ہے
کیا ہم ایک ایسے وقت کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں سب کچھ جاننے کی خواہش، سب کچھ پہلے سے جان لینے میں بدل جائے گی؟ اور اگر سب کچھ معلوم ہو جائے، تو جینے کی کیاکشش باقی رہے گی؟
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔