کیا جانور ہم سے کچھ کہنا چاہتے ہیں؟
بعض راتیں ایسی ہوتی ہیں جب آپ کا پالتو کتا آپ کو یوں دیکھتا ہے جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو۔ بلی آپ کی گود میں آ کر عجیب سا میاؤں کرتی ہے، جیسے کسی راز میں شریک کرنا چاہتی ہو۔ ہم اکثر جانوروں کی حرکات، آوازوں اور جسمانی زبان کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں—لیکن کبھی کبھار لگتا ہے جیسے ہم کسی اور زبان کی دیوار کے پیچھے قید ہیں۔
گوگل ڈیپ لرننگ کے ڈولفن جیما کا نام شاید آپ نے سنا ہوگ جو کہ ڈولفن کی زبان سمجھنے کی ایک اے آئی بیسڈ کوشش ہے اور اب Baidu نے باقی جانوروں کی بات چیت سمجھنے کے لیے ایک کوشش کی ہے۔
چینی ٹیکنالوجی کمپنی Baidu ایک ایسا نظام ڈیویلپ کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے، جس کا مقصد جانوروں کی آوازوں، جسمانی حرکات، اور یہاں تک کہ دل کی دھڑکنوں کا انسانی زبان میں ترجمہ کرنا ہے۔ اس منصوبے کو ایک باقاعدہ پیٹنٹ کی صورت میں چین کے انٹلیکچوئل پراپرٹی آفس میں رجسٹر کرایا گیا ہے۔ اس "جانور ٹرانسلیٹر" نظام میں مشین لرننگ اور نیچرل لینگوئج پراسیسنگ جیسے جدید ترین طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ کوئی جانور خوش ہے، پریشان ہے، خوف زدہ ہے یا کسی تکلیف میں ہے۔
یہ خیال بظاہر سادہ لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک گہری سائنسی سوچ کارفرما ہے۔ جانوروں کی آوازوں کو ڈیجیٹل سگنلز میں بدلنا، ان سگنلز کا انسانی جذبات کے ساتھ تعلق تلاش کرنا، اور پھر ان کو ایسے الفاظ میں بیان کرنا جو انسان سمجھ سکے،یہ سب کام ایک الگ ہی جہان کی تخلیق ہے۔ ابتدائی طور پر یہ ٹیکنالوجی پالتو جانوروں اور مویشیوں کے لیے ڈیزائن کی جا رہی ہے، لیکن مستقبل میں شاید جنگلی حیات کے تحفظ یا یہاں تک کہ جانوروں کے حقوق کی بحث میں بھی یہ ایک بڑا کردار ادا کرے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی جانوروں سے بات چیت کر پائیں گے؟ کیا ہم ایک دن اپنے کتے سے پوچھ سکیں گے کہ وہ کس چیز سے پریشان ہے؟ یا بلی سے یہ جان پائیں گے کہ وہ کیا چاہتی ہے؟ اگر یہ ممکن ہو گیا، تو یہ نہ صرف انسانی جذبات کی توسیع ہو گی بلکہ ہمارے ذمہ دار رویے کا ایک نیا مرحلہ بھی۔
بیدو (Baidu)کا یہ قدم ایک خواب کی تعبیر لگتا ہے، مگر ہر نئی ٹیکنالوجی کی طرح اس کے ساتھ بھی سوالات وابستہ ہیں، کیا جذبات کا ترجمہ ممکن ہے؟ کیا مشین واقعی کسی جانور کے احساس کو مکمل طور پر سمجھ سکتی ہے؟ اور اگر سمجھ سکتی ہے، تو کیا ہم اس پر بھروسہ کریں گے؟
ابھی یہ سفر ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن دنیا ضرور دیکھ رہی ہے کہ کب پہلا "Hello human" کسی پالتو جانور کی طرف سے سنائی دے گا۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔