جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

تجزیے

اے آئی کی دنیا کا آج کا سوال:

15 جولائی 2025

اے آئی کی دنیا کا آج کا سوال:

کیا AI کی مدد سے موت کو شکست دی جا سکے گی؟

کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں انسان شاید کبھی اعتراف نہیں کرتا، مگر وہ اس کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ان خوابوں میں سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ کیا موت کو شکست دی جا سکتی ہے؟ کیا ہم فنا سے ہمیشہ کے لیے نکل سکتے ہیں؟، کبھی بڑھاپے کی جھریاں ہمارے چہرے پر نمودار نہ ہوں اور کبھی ہماری یادداشت ختم نہ ہو۔ پہلے پہل یہ خواہش محض کہانیوں، افسانوں اور فلموں میں نظر آتی تھی۔ لیکن اب، مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید سائنس کی بدولت یہ خواب لیبارٹریوں میں تجرباتی منازل طے کر رہا ہے۔

پہلے زمانے میں موت کو ٹالنے کا خیال جادوگری اور طلسمات سے وابستہ تھا۔ لیکن آج سائنسدانوں نے اسے سائنسی بنیادوں پر دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ انسان کے دماغ کو ایک ایسی مشین سمجھا جا رہا ہے جسے کمپیوٹر میں محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ انسانی دماغ تقریباً 86 ارب نیورونز اور ان سے جڑے کھربوں کنیکشنز پر مشتمل ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ اگر ہم اس پورے جال کا مکمل خاکہ بنا لیں اور پھر کسی طاقتور کمپیوٹر میں اس کی نقل بنا دیں، تو اس نقل میں وہی یادیں، وہی عادتیں، وہی ترجیحات اور وہی طرزِ استدلال موجود ہوں گے۔
اسی خیال پر مبنی ایک اصطلاح مشہور ہو چکی ہے: Mind Uploading یعنی شعور کی منتقلی۔

امریکہ میں Nectome نامی ایک کمپنی اسی میدان میں کام کر رہی ہے۔ ان کے سائنس دان انسانی دماغ کو انتہائی باریک کیمیائی عمل سے محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مرنے کے بعد بھی اس کے خلیے کئی برس ٹھیک حالت میں رہ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ممکن ہو جائے گا کہ ان نیورونز کا ڈیجیٹل نقشہ تیار کر کے کمپیوٹر میں “زندہ” رکھا جا سکے۔

یہ ایک نہایت متنازع خیال ہے۔ کچھ لوگ اسے علمی معجزہ کہتے ہیں، اور کچھ اسے موت کی توہین۔ اس کے ناقدین سوال کرتے ہیں کہ اگر آپ کا شعور کمپیوٹر میں محفوظ ہو بھی جائے، کیا وہ اصل آپ ہوں گے یا محض ایک نقلی عکس؟

اسی طرح، کچھ سائنسدان جسمانی طور پر موت کو شکست دینے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ بڑھاپا اور موت، جسم میں جینیاتی تبدیلیوں اور خلیوں کی خرابیوں کی وجہ سے آتی ہیں۔ جینز میں ایسی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں کہ جسم کے خلیے بڑھاپے کا شکار ہی نہ ہوں۔ اس ٹیکنالوجی کو "CRISPR" کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے اب جینیاتی نقائص کو درست کرنا ممکن ہوا ہے۔ امریکہ کی بڑی کمپنیاں اور تحقیقی ادارے اِس کوشش میں ہیں کہ جینز میں تبدیلی کر کے انسانوں کو طویل عمر دی جا سکے۔ تجربات سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ چوہوں کی زندگی میں تقریباً تیس فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ابھی انسانوں پر یہ تجربات محدود اور ابتدائی مراحل میں ہیں۔

ایک اور حیران کن ترقی یہ ہے کہ سائنسدان ایسے ننھے ننھے روبوٹ (نینو روبوٹس) بنا رہے ہیں جنہیں انسانی جسم کے اندر بھیجا جا سکتا ہے۔ یہ روبوٹ خون میں تیرتے ہوئے بیمار خلیوں کی مرمت کر سکتے ہیں۔ انہیں اس طرح پروگرام کیا جا سکتا ہے کہ وہ خود ہی بیماری کو تلاش کریں اور اسے ختم کریں۔ یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے، مگر مستقبل قریب میں ایسی دوائیں تیار ہو سکتی ہیں جو انسان کو صحت مند رکھ کر زندگی لمبی کر سکیں گی۔ نینو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسی دواؤں کی تیاری پر دنیا کی مشہور یونیورسٹیاں اور لیبارٹریز کام کر رہی ہیں۔ MIT اور Harvard کی مشترکہ تحقیق میں ایسے نینو روبوٹس کے ڈیزائن تیار ہو چکے ہیں جو خون میں گھوم کر کینسر کے خلیوں کو ہدف بنا کر تباہ کرتے ہیں۔ اگر یہی صلاحیت بڑھاپے کے خلیوں پر استعمال کی جائے، تو اصولاً انسان کی صحت برسوں برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ NanoMedicine میں استعمال ہونے والی AI یہ حساب لگاتی ہے کہ جسم کے کن حصوں میں خلیے بیمار ہو رہے ہیں اور کن خلیوں کو نئی توانائی دینا ضروری ہے۔

ان تمام پیش رفتوں میں مصنوعی ذہانت ایک مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ نظام لاکھوں کروڑوں معلومات کا تجزیہ کر کے انسانوں کے لیے نئی راہیں تلاش کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر، AI کی مدد سے وہ دوائیں تیار کی جا رہی ہیں جو خاص طور پر جسم میں بڑھاپے اور بیماری کی وجہ بننے والے پروٹین کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ یہ کام انسانی ذہن اکیلے نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ اتنی بڑی مقدار میں معلومات کا تجزیہ صرف مصنوعی ذہانت کے ذریعے ممکن ہے۔

یہ سب کوششیں سائنس کی عظیم کامیابی ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ کچھ سوالات بھی وابستہ ہیں۔ اگر انسانی شعور ڈیجیٹل بن کر زندہ رہے تو کیا وہ حقیقی زندگی کہلائے گی؟ کیا یہ انسان کی اصل ذات ہے یا صرف یادوں اور احساسات کی ایک مصنوعی نقل؟ اگر بڑھاپا رُک جائے تو کیا انسان واقعی مطمئن اور خوش ہو جائے گا؟ کیا جسمانی عمر بڑھنے سے انسان اپنی روحانی اور اخلاقی زندگی بھی بہتر بنا سکے گا؟

یہاں پر سائنس اپنی حدوں کو پہنچتی محسوس ہوتی ہے اور مذہب کی روشنی میں ان سوالوں کے جواب ہمیں ملتے ہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ قرآن مجید میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ "ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔" یعنی موت زندگی کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انسان نہیں بھاگ سکتا۔ بےشک ہم علم کے ذریعے زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں، لیکن حقیقی دائمی زندگی صرف اور صرف اللہ کی عطا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور جدید سائنس بلاشبہ انسانی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلیاں لارہی ہیں اور آئندہ بھی لائیں گی۔ لیکن یہ سب ترقی ایک حد تک ہے۔ جب انسان تکبر میں آ کر قدرت کے فیصلوں کو چیلنج کرنے لگتا ہے تو پھر علم کی یہی روشنی گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔ اس لیے سائنس کی ترقی کو خدا کی نعمت سمجھ کر اسے انسانیت کی بہتری اور بھلائی کے لیے استعمال کرنا ہی اصل دانشمندی ہے۔ سائنس کی مدد سے ہم اس دنیا میں کچھ اور وقت تو گزار سکتے ہیں، مگر آخرت کی زندگی ہمیشہ کے لیے ہے۔ یہی ایمان کی خوبصورتی ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جس کے سامنے ہر سائنس، ہر ٹیکنالوجی اور ہر ترقی عاجزی سے سر جھکا دیتی ہے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں