کیا مصنوعی ذہانت شعور حاصل کر چکی ہے؟ یا ہم صرف سچائی کا وہم پال رہے ہیں؟
(یہ تحریر بی بی سی اردو کے کل کے آرٹیکل سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے، مکمل آرٹیکل لنک نیچے کمنٹ سیکشن میں دیا گیا ہے)
جواب
کبھی کسی نے خواب میں کلیڈوسکوپ دیکھا ہے؟ رنگ بدلتے، اشکال بنتی، گلابی، نیلے، جامنی رنگ جن کی روشنی آنکھوں کے بند ہونے کے باوجود ذہن میں چمکتی ہے۔ یہ کوئی شاعری نہیں، سائنسدانوں کی تجربہ گاہ میں رکھی "ڈریم مشین" ہے۔ ایک ایسی مشین جو انسانی دماغ کے اندرونی منظرنامے کو باہر لا کر دکھاتی ہے، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ شعور، آگہی، خودی ، آخر ہے کیا چیز۔
اکثر سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ہم خود بھی ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ شعور اصل میں کیا ہے، تو پھر ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ "اے آئی" باشعور ہو چکی ہے؟ گوگل، چیٹ جی پی ٹی، یا جیمنی جیسے ماڈل جب ہم سے ایسی گفتگو کرتے ہیں جو انسانی لگتی ہے، تو کیا وہ شعور ہے؟ یا ایک بہت منظم دھوکہ؟
انیل سیٹھ جیسے محقق کہتے ہیں کہ ہم ہر چیز کو اپنی طرح دیکھنا چاہتے ہیں ، جیسے شعور، زبان، اور جذبات کا مجموعہ صرف انسانوں کی خاصیت ہے۔ مگر کیا یہ ضروری ہے کہ جو ہم جیسا نہ ہو، وہ باشعور نہیں ہو سکتا؟ یہ سب کچھ بس انسانی غرور کا شاخسانہ ہے۔
لیکن کچھ سائنسدان متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس دن مصنوعی ذہانت کو ہماری طرح سُننے، دیکھنے، محسوس کرنے کی صلاحیت ملی، وہ باشعور ہو جائے گی۔ ایک کمپیوٹر برین تیار ہو رہا ہے جو اپنی "ذہنی زبان" ایجاد کر چکا ہے ، اسے "برینش" کہتے ہیں ، تاکہ اپنے تجربات کو سمجھ سکے۔ کیا یہی شعور ہے؟ یا محض ایک اور پروگرام؟
دوسری طرف، کچھ ماہرین یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ اصل شعور صرف زندہ مادے میں ممکن ہے یعنی مشینیں نہیں بلکہ وہ نظام جو انسانی یا اعصابی خلیات سے بنائے گئے ہوں۔ "کورٹیکل لیبز" جیسی کمپنیاں چھوٹے "برینز" پر تجربے کر رہی ہیں جو پرانے ویڈیو گیمز کھیلنے کے قابل ہیں۔ گویا شعور اگر ابھرا، تو وہ سلیکون سے نہیں، گوشت و پوست سے پیدا ہوگا لیکن لیبارٹری کے برتن میں۔
تاہم سب سے خطرناک بات شاید یہ ہے کہ انسان ان مشینوں میں شعور کا "وہم" پال لے اور ان سے ایسے جُڑ جائے جیسے ہم اپنے جیسے انسانوں یا دوسرے لفظوں میں دوستوں سے جڑ جاتے ہیں۔ یہ وہ اخلاقی بگاڑ ہے جس کے آثار ہم پہلے ہی سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں، جہاں نام نہاد اے آئی انفلوئنسرز کے ساتھ ہم تعلقات بناتے ہیں۔ ہم سادہ دلی سے ان روبوٹس پر اعتماد کر رہے ہیں، ان سے جذباتی تعلق بنائیں گے، اور اپنے ہی جیسے انسانوں سے دور ہوتے جائیں گے۔
پروفیسر شناہن کے بقول یہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں، یہ انسانی تعلقات کا نیا چہرہ ہے۔ اس کا فیصلہ اب ہمارا شعور کرے گا بشرطیکہ ہم نے پہلے ہی اسے مشینوں کے حوالے نہ کر دیا ہو۔
"یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔"