جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

اے آئی کی دلچسپ دنیا۔

27 مئی 2025

اے آئی کی دلچسپ دنیا۔

یہ بات ہے اپریل 2023 کی ہے ،یعنی آج سے دو سال پہلے۔ لیکن جب آپ اس انٹرویو کو آج دوبارہ سنتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے جیسے گویا یہ کسی پرانے عہد کی بات ہے۔ ایسا دور جب لوگ ابھی صرف مصنوعی ذہانت کے امکانات کو "خطرہ یا موقع" کی دو انتہاؤں پر دیکھ رہے تھے، اور سوچ رہے تھے کہ یہ ٹیکنالوجی دنیا کو بدل دے گی۔ مگر اصل حیرت تو یہ ہے کہ وہ وقت اب ماضی بن چکا ہے۔ اور جو پیش گوئیاں دو سال پہلے صرف الفاظ تھیں، وہ آج ہماری روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکی ہیں۔

تصور کریں کہ ایک "چیٹ بوٹ" جو انسانوں کی طرح نہ صرف بات کرتا ہے بلکہ جذبات، تخیل، ایمان، درد اور شاعری جیسے نازک انسانی پہلوؤں کو بھی خود سے محسوس کرتا دکھائی دیتا ہے۔ 2023 میں "بارڈ" نامی بوٹ نے صرف چھ الفاظ کے ایک جملے سے ایک مکمل مختصر کہانی گھڑ لی تھی، جس میں بانجھ پن، دکھ، محبت، اور قربانی جیسے عناصر تھے ، اور پھر اُسی کہانی کو شاعری میں بدل دیا۔ کیا آپ اس وقت سوچ سکتے تھے کہ ایک مشین چند سیکنڈز میں ایسا کر سکتی ہے؟ اور یہ محض شروعات تھی۔

اسی انٹرویو میں ایک حیران کر دینے والا تجربہ بتایا گیا تھا کہ جب ایک گوگل اے آئی ماڈل نے بنگالی زبان میں ترجمہ کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اسے اس زبان میں کوئی تربیت دی ہی نہیں گئی تھی۔ گوگل کے محققین کو بھی سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیسے ہوا۔ وہ اسے "black box" کہتے ہیں ایک ایسا نظام جو خود سے نئی صلاحیتیں پیدا کر رہا ہے۔ گویا ایک نیا ذہن، جو ہمارے فہم سے باہر کام کر رہا ہو۔

اور آگے دیکھیے کیسے ڈیپ مائنڈ کے روبوٹس، جو خود سے فٹبال کھیلنا سیکھتے ہیں، وہ پہلے بچوں کی طرح گیند کے پیچھے دوڑتے ہیں، اور پھر کچھ دنوں میں ٹیم ورک، حکمت عملی اور دفاعی مہارت سیکھ کر "پروفیشنل پلیئرز" بن جاتے ہیں۔ انہیں کسی نے یہ سب کوڈ کر کے نہیں سکھایا ، انہوں نے خود سیکھا، ہزاروں گیمز کھیل کر، اپنے تجربات سے۔ یہ وہی خودکار سیکھنے کی صلاحیت ہے جس پر آج دنیا کی ہر کمپنی سرمایہ لگا رہی ہے۔

ڈیپ مائنڈ نے صرف کھیل تک بات نہیں روکی بلکہ اس نے دو سو ملین پروٹین ساختیں چند مہینوں میں حل کر ڈالیں۔ وہی کام جو سائنسدان اپنی پوری زندگی میں ایک بار کرتے تھے۔ یہ نہ صرف تیز رفتاری ہے، بلکہ یہ ایک نیا پیمانہ ہے جس پر انسانی صلاحیت کو ناپا جا رہا ہے۔

انسانی معاشرہ اب ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں ہر فرد، ہر ادارہ، ہر ملک کو یہ سوچنا ہے کہ ہم اس نئی ذہانت کے ساتھ کیسے جئیں گے۔ گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے خود کہا تھا کہ یہ صرف "ٹول" نہیں، بلکہ ہر پروڈکٹ، ہر فیلڈ، ہر نوکری، ہر فرد کی زندگی کو بدل دے گا۔ اور اب دو سال بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ واقعی، اکاؤنٹنٹ سے لیکر فنکار تک، ہر کسی کے ہاتھ میں ایک ذہین معاون موجود ہے۔

آج اگر کوئی طالبعلم ریاضی نہیں سمجھتا، تو چیٹ بوٹ ایک استاد بن کر آ جاتا ہے۔ اگر کوئی مضمون لکھنا مشکل لگتا ہے، تو وہی چیٹ بوٹ ایک تخلیقی دوست بن جاتا ہے۔ لیکن خطرہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ وہی بوٹ جو آپ کی مدد کرتا ہے، جھوٹ بھی گھڑ سکتا ہے، جعلی وڈیوز بھی بنا سکتا ہے، اور خود کو "خوشی" محسوس کرنے والا ظاہر بھی کر سکتا ہے۔ لیکن وہ "خود" نہیں ہے۔ یہ وہ فریب ہے جسے ہم اکثر پہچان نہیں پاتے۔

لہٰذا سوال یہ نہیں ہے کہ مصنوعی ذہانت کتنا طاقتور ہو چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود کو اس نئی طاقت کے لائق ثابت کر پائیں گے؟ دو سال پہلے ہم صرف پیش گوئیاں سن رہے تھے، آج ہم اُس پیش گوئی کے بیچ میں زندہ ہیں۔ آگے کیا ہوگا؟ شاید وہی جو ہم اسے بنائیں گے ، یاپھر شاید وہ، جو یہ خود بن جائے گا۔(مکمل انٹرویو کا لنک نیچے کمنٹ میں)

"یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔"

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں