جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

تجزیے

اے آئی کی آج کی دلچسپ بات

17 اپریل 2025

اے آئی کی آج کی دلچسپ بات

ذرا تصور کریں، ایک ایسا نظام جو صرف تصویریں دیکھ کر دل کی بیماریوں کا اندازہ لگا سکتا ہے، وہ بھی بغیر کسی لیب ٹیسٹ کے۔ جی ہاں، حال ہی میں محققین نے ایک ایسا ذہین ماڈل تیار کیا ہے جو مریض کے چہرے یا آنکھوں کی تصویر دیکھ کر اس کی صحت کے متعلق ایسی معلومات فراہم کر سکتا ہے، جو پہلے صرف بڑی بڑی مشینوں سے ہی حاصل ہوتی تھیں۔ یہ صرف سائنس فکشن نہیں، بلکہ آج کی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔یہ کام “Visual Diagnosis” کہلانے والے ایک نئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ تصویروں کے ذریعے جسمانی یا دماغی بیماریوں کے آثار پہچان سکے۔ مثلاً کچھ سسٹمز صرف آنکھوں کی ایک تصویر دیکھ کر ذیابیطس کی تشخیص کر سکتے ہیں، یا چہرے کی رنگت اور بناوٹ سے دل کی دھڑکن کے مسائل کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ان سسٹمز کو تربیت دینے کے لیے لاکھوں تصویروں، مریضوں کے ڈیٹا اور ڈاکٹروں کی مدد لی جاتی ہے، تاکہ یہ مشینیں انسان جیسی درستگی حاصل کر سکیں۔ ان میں سے کچھ ماڈل کھلے عام دستیاب بھی ہیں، تاکہ دنیا بھر کے ڈاکٹر، محقق اور طالبعلم ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔

آئینک ایسا ہی ایک ذہین نظام ہے جو آنکھوں کی تصویر کے ذریعے ذیابیطس کے اثرات جانچنے میں مدد دیتا ہے — اور وہ بھی بغیر کسی انسانی ڈاکٹر کی مداخلت کے۔“Eyenuk” ایک امریکی کمپنی ہے، جس نے “EyeArt” نامی ایک AI سسٹم تیار کیا ہے۔ یہ سسٹم خاص طور پر ذیابیطس ریٹینوپیتھی کی شناخت کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی آنکھوں کی بیماری ہے جو شوگر کے مریضوں میں عام ہوتی ہے اور اگر وقت پر نہ پہچانی جائے تو بینائی ضائع ہو سکتی ہے۔ EyeArt کو صرف ایک آنکھ کی ہائی ریزولوشن تصویر درکار ہوتی ہے، اور یہ چند سیکنڈ میں بتا دیتا ہے کہ مریض کو اس بیماری کا خطرہ ہے یا نہیں۔

اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اسے FDA یعنی امریکی ادارۂ خوراک و ادویات کی منظوری بھی حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے باقاعدہ کلینکس اور اسپتالوں میں مریضوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، بغیر اس کے کہ درمیان میں کوئی ماہرِ چشم شامل ہو۔

آئینک کی خاصیت صرف اس کی تیز رفتاری نہیں، بلکہ یہ بھی کہ یہ ان علاقوں میں انقلاب لا سکتا ہے جہاں ماہر ڈاکٹر میسر نہیں۔ سوچیں، ایک چھوٹے قصبے میں ایک عام کلینک میں اگر یہ سسٹم موجود ہو، تو صرف چند تصویریں لے کر ایک نان اسپیشلسٹ بھی مریض کی آنکھوں کی صحت جانچ سکتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر اسے بروقت بڑے اسپتال بھیج سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی نہ صرف طبی نظام میں ایک خاموش انقلاب ہے بلکہ مریضوں کے لیے بھی ایک نئی امید ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو وقت پر تشخیص سے محروم رہ جاتے ہیں۔

یہ تحریر "اے آئی کی دنیا "کے فیس بک پیچ پر پوسٹ کی گئی ہے۔

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں