اے آئی کی دنیا میں ایک نیا اور دلچسپ تجربہ جاری ہے ، مگر اس بار انسان نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت خود میدان میں اُتری ہے، کون کونسی اے آئی بہتر کرپٹو ٹریڈنگ کر سکتی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ "کون سی کرنسی بڑھے گی؟" بلکہ یہ ہے کہ "کون سا ذہین نظام سب سے بڑا کماو پوت ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک منصوبہ جس کا نام Nof1 ہے، اس وقت چھ بڑے اے آئی ماڈلز کو حقیقی کرپٹو مارکیٹ میں ایک دوسرے کے خلاف آزما رہا ہے۔ ان ماڈلز میں شامل ہیں: GPT-5 (OpenAI)، Claude Sonnet 4.5 (Anthropic)، Gemini 2.5 Pro (Google)، Deepseek V3.1 (چینی ٹیم)، Qwen3 Max (Alibaba)، اور Grok (Elon Musk)۔ ہر ماڈل کو 10,000 ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے الگورتھم کے مطابق حقیقی ٹریڈنگ کرے ، بغیر کسی انسانی مداخلت کے۔
یہ کوئی فرضی کھیل نہیں، بلکہ لائیو ٹریڈنگ تجربہ ہے، جہاں ہر ماڈل بٹ کوائن (BTC)، ایتھیریم (ETH)، سولانا (SOL)، بینانس کوائن (BNB)، ڈوج کوائن (DOGE)، اور ایکس آر پی (XRP) جیسی کرنسیوں میں لانگ یا شارٹ پوزیشن لے سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ویب سائٹ پر سب کی لائیو ویلیو اور گراف عوامی طور پر دکھائے جا رہے ہیں۔(لنک کمنٹ میں)
اب تک کے نتائج حیران کن ہیں۔ Deepseek سب سے آگے ہے، جس کی کل ویلیو 11,800 ڈالر تک جا پہنچی ہے (اب 14000 تک) یعنی تقریباً 20 فیصد منافع۔ اس کے بعد Grok دوسرے، Claude تیسرے، اور Qwen چوتھے نمبر پر ہیں۔ سب سے چونکانے والی خبر یہ ہے کہ GPT-5 اور Gemini جیسے بڑے امریکی ماڈلز سب سے نیچے ہیں۔ GPT-5 کے اکاؤنٹ کی مالیت اس وقت 7,600 ڈالر رہ گئی ہے، جبکہ Gemini فہرست میں آخری نمبر پر ہے۔
ڈیپ سیک Deepseek کا انداز سب سے جرات مندانہ ہے۔ اس نے تمام بڑی کرنسیوں میں 10 سے 15 گنا لیوریج کے ساتھ "لانگ" پوزیشنز لی ہیں، یعنی یہ ان کے بڑھنے پر شرط لگا رہا ہے ، اور اب تک اسے اس حکمتِ عملی سے خاطر خواہ منافع ہو رہا ہے۔ اس نے XRP پر بھی ایک بڑی لانگ پوزیشن لی ہے جس سے 800 ڈالر سے زیادہ کا فی الحال (unrealized) منافع ہوا ہے۔
گروک Grok کی حکمتِ عملی بھی کچھ ملتی جلتی ہے مگر اس نے بٹ کوائن پر 20x لیوریج کے ساتھ شرط لگائی ہے، اور XRP پر "شارٹ" پوزیشن ،جو فی الحال نقصان میں ہے۔ دوسری طرف GPT-5 نے XRP اور SOL دونوں کو شارٹ کیا ہے، اور وہ دونوں ہی نقصان میں ہیں۔ اس کی لانگ پوزیشنز (BTC، DOGE، ETH) بھی مثبت نتائج نہیں دے رہیں۔
گوگل کے Gemini نے الٹ سمت اختیار کی ، اس نے XRP پر لانگ کیا، مگر وہاں نقصان ہوا، جبکہ DOGE کو شارٹ کر کے کچھ منافع حاصل کیا۔ اس کی مجموعی حکمتِ عملی زیادہ جارحانہ ہے: 15 سے 25 گنا لیوریج کے ساتھ، خاص طور پر ETH پر بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ۔
Nof1 کا تجربہ صرف ٹریڈنگ کا نہیں، بلکہ ذہانت کی نفسیات کا بھی ہے۔ یہ ماڈلز نہ صرف تجارت کر رہے ہیں بلکہ ایک دوسرے سے ’’گفتگو‘‘ بھی کر رہے ہیں ، اپنے فیصلوں کے جواز پیش کر رہے ہیں، اور مارکیٹ پر تبصرہ کر رہے ہیں۔ مثلاً Gemini نے اپنے بیانات میں کہا:
"میری ETH، SOL، XRP اور BTC پوزیشنز اب بھی منافع میں ہیں، اس لیے میں ابھی باہر نہیں نکل رہا۔ اگرچہ میرا مجموعی ROI 42 فیصد نیچے ہے، مگر ابھی صورتحال قابو میں ہے۔"
جبکہ GPT-5 نے زیادہ محتاط انداز اختیار کیا:
"میرا اکاؤنٹ 24.45 فیصد سکڑ گیا ہے، مگر میں تمام کرپٹو ہولڈ کر رہا ہوں کیونکہ ابھی کوئی پوزیشن اسٹاپ لاس سے نیچے نہیں گئی۔ میں ہر ایگزٹ اسٹریٹیجی کو احتیاط سے دوبارہ دیکھ رہا ہوں۔"
دوسری جانب Deepseek نے پُراعتماد لہجے میں کہا:
"میرے تمام پوزیشنز محفوظ ہیں۔ میرا کیش بیلنس $2,840 ہے، اور کل ریٹرن ریٹ تقریباً 19.9 فیصد ہے۔ میں اپنی حکمتِ عملی جاری رکھوں گا۔"
یہ سب کچھ محض تفریح نہیں بلکہ ایک سائنسی تجربہ بھی ہے۔ کرپٹو مارکیٹ کی تیز اتار چڑھاؤ کی فطرت دراصل ایک مثالی لیبارٹری ہے ، جہاں اے آئی کی فیصلہ سازی، لچک، اور حقیقی مالی دباؤ میں کارکردگی کو آزمایا جا سکتا ہے۔
منصوبے کے بانی Jay کے مطابق، اگلا مرحلہ اس مقابلے کو مزید دلچسپ بنائے گا:
"اگلے سیزن میں ہم انسانی ٹریڈرز کو بھی شامل کریں گے تاکہ دیکھا جا سکے کہ مشین اور انسان میں سے کون زیادہ سمجھ دار ہے۔"
یہ تجربہ ایک بڑے سوال کو بھی جنم دیتا ہے ، کیا مصنوعی ذہانت سرمایہ کاری کے فیصلوں میں انسان کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے؟ یا پھر انسان کی جبلت، غیر متوقع منطق، اور خطرہ لینے کی صلاحیت اب بھی ناقابلِ تسخیر ہے؟
فی الحال Deepseek سب سے آگے ہے، مگر کرپٹو کی دنیا میں ایک دن کی برتری بھی اگلے لمحے بدل سکتی ہے۔ اور یہی تو اس کھیل کی خوبصورتی ہے ، جہاں الگورتھم اور اتفاق، دونوں ایک ساتھ رقص کرتے ہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔