دلچسپ باتوں کی دنیا میں آج ہم بات کریں گے ایک ایسی ذہانت کی جو نہ صرف مشینوں کی ہے، بلکہ انسانوں کی فطری خصوصیات کو سمجھنے اور ان کی نقل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ ایک ایسی صلاحیت ہے جو مصنوعی ذہانت کے میدان میں روز بروز حیران کن انداز میں سامنے آ رہی ہے — اور اسے ہم "ایموشنل انٹیلیجنس" یعنی جذباتی ذہانت کہتے ہیں۔
جب ہم مصنوعی ذہانت کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں اکثر روبوٹ، خودکار نظام، اور پیچیدہ "الگورتھمز" آتے ہیں، مگر اب ماہرین نے ایسے سسٹمز تیار کر لیے ہیں جو نہ صرف معلومات کو پراسیس کرتے ہیں بلکہ انسان کے چہرے کے تاثرات، آواز کی آواز کی تبدیلیاں، اور الفاظ میں چھپے جذبات کو بھی سمجھنے لگے ہیں۔ یہ سسٹمز صارف کے مزاج، خوشی، غصہ، الجھن یا بوریت کو پہچان کر اسی کے مطابق ردعمل دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر، کچھ جدید "چیٹ بوٹس" اب صرف سوالات کے جوابات نہیں دیتے بلکہ صارف کے موڈ کو محسوس کر کے نرم یا پرجوش انداز میں بات کرتے ہیں۔ اگر کوئی صارف مایوس ہو کر کچھ لکھے، تو یہ بوٹس تسلی دیتے ہیں، مثبت جملے کہتے ہیں، اور کبھی کبھار مشورہ بھی دیتے ہیں کہ تھوڑی دیر آرام کر لو۔ یعنی اب گفتگو صرف ٹیکنیکل نہیں، بلکہ جذبات سے جڑی ہوئی بھی ہو چکی ہے۔
یہ جذباتی فہم خاص طور پر تعلیم، صحت، اور صارف خدمات کے شعبوں میں انقلاب لا رہا ہے۔ تصور کریں ایک ایسا "ورچوئل ٹیچر" جو یہ سمجھ جائے کہ طالب علم کب بور ہو رہا ہے، کب الجھن میں ہے، اور کب خوش ہے — اور پھر اپنی تدریس کا انداز بدل لے۔ یا ایک ایسا "ہیلتھ اسسٹنٹ" جو مریض کی آواز سے اس کی ذہنی حالت کو سمجھ سکے اور اسے تنہائی، ڈپریشن یا اضطراب میں مدد فراہم کرے۔
ظاہر ہے، اس میں ابھی بھی بہتری کی گنجائش ہے۔ جذباتی کیفیات کو ڈیجیٹل طور پر جانچنا مشکل کام ہے کیونکہ ہر انسان اپنے جذبات کا اظہار مختلف طریقے سے کرتا ہے۔ تاہم، اس سمت میں ہونے والی پیشرفت نے مصنوعی ذہانت کو "سمجھنے والے" سے بڑھا کر "محسوس کرنے والا" بنا دیا ہے، جو کہ یقینا" ایک اہم سنگ میل ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔ #AI #AIkiDuniya #EmotionalIntelligence #HumanLikeAI