کاروباری دنیا کے لیے ایک واضح پیغام سامنے آیا ہے جہاں Sam Altman نے خبردار کیا ہے کہ جو کمپنیاں ابھی سے مصنوعی ذہانت کو اپنانا شروع نہیں کریں گی وہ مستقبل میں پیچھے رہ جائیں گی۔ ان کے مطابق اے آئی اب ایک آپشن نہیں بلکہ بقا کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے تین اہم نکات پر زور دیا۔ پہلا یہ کہ کمپنیاں فوری طور پر اپنی کمپیوٹنگ صلاحیت کو محفوظ کریں کیونکہ مستقبل میں یہ سب سے قیمتی وسیلہ ہوگا۔ دوسرا یہ کہ اے آئی کے استعمال کو صرف تجرباتی نہ رکھا جائے بلکہ اس کی حقیقی کارکردگی کو ناپا جائے۔ تیسرا اور سب سے اہم یہ کہ کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار خود روزمرہ کے کاموں میں اے آئی کا استعمال شروع کریں تاکہ وہ اس کی اصل طاقت کو سمجھ سکیں۔
اعداد و شمار کے مطابق OpenAI نے صرف ایک سال میں اپنی کمپیوٹنگ صلاحیت کو تین گنا بڑھا کر تقریباً 1.9 گیگاواٹ تک پہنچا دیا ہے، اور مستقبل میں ہر ہفتے مزید انفراسٹرکچر شامل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اے آئی کی دوڑ اب صرف سافٹ ویئر نہیں بلکہ توانائی اور انفراسٹرکچر کی جنگ بھی بن چکی ہے۔
انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ آنے والے برسوں میں لیبر مارکیٹ کو ایک مشکل تبدیلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اندازہ ہے کہ 2028 تک ڈیٹا سینٹرز میں موجود ذہانت انسانی ذہانت سے زیادہ ہو سکتی ہے، جو کام کے روایتی نظام کو مکمل طور پر بدل دے گی۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ مستقبل میں کامیابی صرف انہی لوگوں اور کمپنیوں کو ملے گی جو بروقت اس تبدیلی کو سمجھ کر خود کو اس کے مطابق ڈھال لیں گے، ورنہ یہ ٹیکنالوجی انہیں پیچھے چھوڑ دے گی۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #SamAltman, #OpenAI, #ArtificialIntelligence, #FutureOfWork, #TechNews