قدیم مذاہب کی تعلیمات، فلسفے کے صدیوں پرانے سوالات اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ آج ایک ایسے مقام پر آکر مل رہے ہیں جہاں ایک ناقابل یقین نظریہ دوبارہ زندہ ہو رہا ہے۔ یہ ہے سیمولیشن ہائپوتھیسس، یعنی یہ امکان کہ ہماری پوری کائنات شاید ایک کمپیوٹر پروگرام یا کسی اعلی درجے کی ذہانت کا تخلیق کردہ ورچوئل ماحول ہو۔
اسی تصور کو نئی جان اس وقت ملی جب ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے محقق رضوان وِرک نے اپنی 2025 کی کتاب میں بتایا کہ یہ نظریہ صرف جدید سائنس فکشن نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہندو، بدھ اور صوفی روایات میں صدیوں سے موجود ہیں۔ ان روایات میں دنیا کو ایک فریب، مایا یا پردہ قرار دیا گیا ہے اور انسان کو ایک ایسی روح سمجھا گیا ہے جو جسمانی دنیا کے پیچھے موجود اصل حقیقت کو مکمل طور پر محسوس نہیں کر پاتی۔
اسی دوران گوگل کی جانب سے جاری کیا گیا نیا ماڈل جینی 3 اس بحث کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔ صرف چند الفاظ لکھنے پر یہ سسٹم حقیقی دنیا کی طرح دکھائی دینے والے پورے پورے مجازی ماحول بنا دیتا ہے۔ پہاڑ، دریا، شہر، روشنی، ماحول، حرکت سب کچھ اتنا حقیقی کہ دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ مستقبل کے ورچوئل عالَم کیسے ہوں گے۔ جب انسان آج خود اربوں آبجیکٹس پر مشتمل ورچوئل دنیا بنا سکتا ہے تو سوال پھر اٹھتا ہے کہ ہماری دنیا بھی شاید کسی اور ذہانت کی تخلیق ہو۔
اسی خیال کو 2003 میں فلسفی نک بوسٹرم نے عالمی سطح پر مشہور کیا تھا۔ ان کے مطابق اگر کسی تہذیب کے پاس اتنی طاقت ہو جائے کہ وہ اربوں حقیقی جیسے ماحول تخلیق کر سکے تو بہت امکان ہے کہ ہم ان میں سے کسی ایک سیمولیشن میں ہوں۔ یہی نکتہ مذہبی فکر میں بھی موجود ہے جہاں دنیا کو ایک امتحان گاہ، ایک پردہ، یا ایک بڑی کہانی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
سائنس کی جانب سے بھی کچھ آوازیں اس مفروضے کے حق میں اٹھتی رہتی ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی کے ماہر فلکیات ڈیوڈ کِپنگ نے حساب لگا کر بتایا کہ اس بات کے امکانات پچاس پچاس ہیں کہ ہم ایک سیمولیٹڈ حقیقت میں جی رہے ہوں۔ جبکہ کچھ سائنس دان اس نظریے کو ناممکن قرار دیتے ہیں۔ 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کوئی بھی خالص الگورتھمک نظام اتنی پیچیدہ کائنات نہیں بنا سکتا جیسی ہم دیکھ رہے ہیں۔
ان تمام بحثوں کے درمیان اصل سوال وہی رہتا ہے جو قدیم فلسفیوں نے پوچھا تھا۔ اگر یہ دنیا ایک نقشہ ہے تو اصل حقیقت کہاں ہے۔ اگر یہ ایک کھیل ہے تو کھلاڑی کون ہے۔ اگر یہ ایک پردہ ہے تو اس کے پیچھے کون سی روشنی جل رہی ہے۔
معاصر اے آئی ٹیکنالوجی، جینی 3 جیسے سسٹمز اور انسان کی اپنی تخلیقی قوتیں اس سوال کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنا رہی ہیں۔ جو کچھ کبھی صرف کہانیوں، مذاہب اور فلسفے میں تھا، آج تحقیق گاہوں، ٹیک کمپنیوں اور سائنسی مباحثوں میں زیر بحث ہے۔
یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں جواب صاف ہو جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ حقیقت ہمیشہ ایک راز رہے۔ مگر جو چیز واضح ہے وہ یہ کہ انسان کے سوال آج بھی وہی ہیں جو ہزاروں سال پہلے تھے، فرق صرف یہ ہے کہ اب ان کے پیچھے کھڑی ٹیکنالوجی کہیں زیادہ طاقتور ہو چکی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔