اے آئی کے بارے میں برسوں سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ دفتری کام، فیصلوں اور مجموعی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ کرے گی، مگر حالیہ تجزیات ایک مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔ Forrester کے تجزیہ کار JP Gownder کے مطابق، مصنوعی ذہانت اپنی بنیادی وعدہ شدہ صلاحیت یعنی پیداواری اضافہ فراہم کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے۔
ان کے مطابق MIT کی ایک تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ انٹرپرائز سطح پر جنریٹو اے آئی کے تقریباً 95 فیصد منصوبے کوئی بامعنی مالی فائدہ یا واضح ROI پیدا نہیں کر پائے۔ یعنی بڑی کمپنیوں نے اے آئی پر سرمایہ تو لگایا، مگر عملی نتائج اعداد و شمار میں نظر نہیں آئے۔
یہ صورتحال نئی نہیں۔ اس رجحان کو ماہرین معروف “سولو پیراڈاکس” سے جوڑ رہے ہیں، جس کا ذکر نوبل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات Robert Solow نے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپیوٹر اور آئی ٹی میں بھاری سرمایہ کاری کے باوجود طویل عرصے تک قومی پیداواری اعداد و شمار میں اس کا واضح اثر نظر نہیں آیا۔ آج اے آئی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
دلچسپ اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کمزور نتائج کے باوجود، Forrester کی پیش گوئی ہے کہ 2030 تک امریکا میں اے آئی اور آٹومیشن کی وجہ سے تقریباً ایک کروڑ چار لاکھ ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔ JP Gownder کے مطابق یہ نقصانات عارضی نہیں بلکہ ساختی اور مستقل نوعیت کے ہوں گے، یعنی یہ نوکریاں دوبارہ اسی شکل میں واپس نہیں آئیں گی۔
یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے۔ اگر اے آئی فوری طور پر پیداوار نہیں بڑھا رہی، مگر روزگار کم کر رہی ہے، تو اصل فائدہ کس کے حصے میں جا رہا ہے؟ ماہرین کے نزدیک اصل چیلنج ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا نفاذ، تنظیمی ڈھانچے اور انسانی مہارتوں کا درست استعمال ہے۔ بغیر گہرے ادارہ جاتی تبدیلی کے، اے آئی محض ایک مہنگا تجربہ بن کر رہ سکتی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #Productivity, #Forrester, #FutureOfWork, #Automation