آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ایک ٹیک انٹرپرینیور نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنے پالتو کتے کے لیے ایک ذاتی نوعیت کی کینسر ویکسین تیار کی ہے، جسے محققین اس نوعیت کا پہلا تجربہ قرار دے رہے ہیں۔ اس منصوبے میں ChatGPT، AlphaFold اور کسٹم مشین لرننگ ماڈلز استعمال کیے گئے۔
اس منصوبے کے پیچھے پال کوننگھم نامی ٹیک ماہر ہیں جن کے ریسکیو ڈاگ Rosie کو ماسٹ سیل کینسر لاحق تھا۔ انہوں نے اے آئی ٹولز کی مدد سے اس کینسر کے لیے ایک پرسنلائزڈ mRNA ویکسین ڈیزائن کی جو خاص طور پر اسی کتے کے ٹیومر کے جینیاتی پیٹرن کے مطابق تیار کی گئی۔
یہ ویکسین یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز (UNSW) کے RNA انسٹیٹیوٹ میں تیار کی گئی اور دسمبر 2025 میں Rosie کو دی گئی۔ محققین کے مطابق صرف ایک مہینے کے اندر ٹینس بال جتنے بڑے ٹیومر کا سائز تقریباً 75 فیصد تک کم ہو گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ صرف ایک کیس اسٹڈی ہے اور اسے ابھی مکمل سائنسی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا، لیکن یہ مثال اس بات کی طاقتور نشاندہی کرتی ہے کہ اے آئی کی مدد سے پرسنلائزڈ میڈیسن کس قدر تیزی سے ترقی کر سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی طرز کی mRNA کینسر ویکسینز پر انسانوں کے لیے بھی تجربات جاری ہیں۔ فارما کمپنیوں Moderna اور Merck اس وقت انسانی مریضوں پر اسی تصور پر مبنی کلینیکل ٹرائلز چلا رہی ہیں۔
اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ثابت ہوتی ہے تو مستقبل میں اے آئی مریض کے جینیاتی ڈیٹا کو دیکھ کر ہر فرد کے لیے الگ اور ذاتی نوعیت کا علاج تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے