جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

اے آئی کی عالمی سیاست: چین کا نیا ہتھیار

24 اپریل 2026

اے آئی کی عالمی سیاست: چین کا نیا ہتھیار

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں گزشتہ سال ایک غیر معمولی موڑ اس وقت آیا جب چینی اسٹارٹ اپ DeepSeek نے اپنے ایک اے آئی ماڈل کی تفصیلات جاری کیں۔ اس اعلان نے ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں ہلچل مچا دی۔ کمپنی کا دعویٰ تھا کہ اس نے اپنا نظام امریکی کمپنیوں OpenAI اور Anthropic کے مقابلے میں کہیں کم لاگت پر تیار کیا ہے، خاص طور پر مہنگے کمپیوٹر چِپس کے استعمال میں نمایاں بچت کے ساتھ۔

یہی لمحہ بعد میں “DeepSeek مومنٹ” کے نام سے جانا گیا، جس نے اس تاثر کو تقویت دی کہ چینی اے آئی کمپنیاں اب عالمی سطح پر اپنی تکنیکی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ تبدیلی صرف لاگت تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹیکنالوجی کے اشتراک کے طریقے میں بھی ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی۔

ڈیپ سیک نے اپنے ماڈلز کو اوپن سورس کے طور پر جاری کیا، یعنی دنیا بھر کے ڈویلپرز انہیں آزادانہ طور پر استعمال اور تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، OpenAI اور Anthropic نے اپنے جدید ماڈلز کو محدود رکھا۔ اس صورتحال نے یہ ثابت کیا کہ اوپن سورس نظام بھی کارکردگی کے لحاظ سے بند نظاموں کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ اسی رجحان کے تحت، چند ہی مہینوں میں چین کی دیگر کمپنیوں نے بھی درجنوں اوپن سورس ماڈلز متعارف کروا دیے، اور 2025 کے اختتام تک یہ ماڈلز عالمی اے آئی استعمال کا ایک نمایاں حصہ بن گئے۔

حالیہ پیش رفت میں، DeepSeek نے اپنے نئے ماڈل V4 کا ابتدائی ورژن پیش کیا ہے، جسے بھی اوپن سورس کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ ماڈل خاص طور پر کمپیوٹر کوڈ لکھنے میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے، جو جدید اے آئی سسٹمز کے لیے ایک کلیدی صلاحیت بن چکی ہے۔ کارکردگی کے جائزوں کے مطابق، اس نے اوپن سورس کیٹیگری میں دیگر تمام ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اسی دوران، ایک اور چینی کمپنی Moonshot AI نے بھی اپنا نیا اوپن سورس ماڈل “Kimi 2.6” پیش کیا ہے، اور دونوں کے درمیان مقابلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، اگرچہ امریکی ماڈلز ابھی بھی معمولی برتری رکھتے ہیں۔

اس ترقی کے اثرات گہرے ہیں۔ اے آئی کے ذریعے کوڈ لکھنے سے نہ صرف رفتار میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ انسانی پروگرامرز کو زیادہ پیچیدہ مسائل پر توجہ دینے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ماڈلز ایسے “اے آئی ایجنٹس” کو طاقت فراہم کر سکتے ہیں جو دفاتر میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر جیسے اسپریڈشیٹس، ای میل اور کیلنڈر کو خودکار طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔

دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جیسے جیسے یہ سسٹمز بہتر ہو رہے ہیں، ویسے ہی وہ سافٹ ویئر میں سیکیورٹی کمزوریاں تلاش کرنے میں بھی زیادہ ماہر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہی ٹیکنالوجی دفاع اور حملہ دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، جو سائبر سیکیورٹی کے شعبے کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہے۔

تاہم، اس تیزی سے بڑھتی ہوئی پیش رفت کے ساتھ تنازعات بھی سامنے آئے ہیں۔ سلیکون ویلی کی کمپنیوں نے الزام لگایا ہے کہ DeepSeek نے “ڈسٹلیشن” نامی تکنیک کے ذریعے ان کے ماڈلز سے سیکھ کر اپنی کارکردگی بہتر بنائی۔ اس تناظر میں، بہترین اے آئی سسٹمز کی دوڑ اب صرف تکنیکی مقابلہ نہیں رہی بلکہ ایک جغرافیائی سیاسی طاقت کی جنگ بن چکی ہے۔

چین نے اس میدان میں برتری حاصل کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ امریکی حکومتوں نے جدید چِپس تک رسائی محدود کرنے کے لیے برآمدی پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس کے باوجود، اوپن سورس حکمت عملی چین کے لیے ایک بڑی معاشی طاقت بن کر ابھری ہے۔ کم لاگت اور آسان رسائی کے باعث یہ ماڈلز روبوٹکس، لاجسٹکس اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں تیزی سے پھیل رہے ہیں، جہاں سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مزید بہتری کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

عالمی سطح پر بھی اس کا اثر واضح ہے۔ لاگوس سے کوالالمپور تک، کم بجٹ رکھنے والے ڈویلپرز چینی اوپن سورس ماڈلز کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ یہ سستے اور قابلِ رسائی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال عالمی اے آئی استعمال میں ان کا حصہ تقریباً ایک تہائی تک پہنچ گیا، جس میں DeepSeek سرفہرست رہا، جبکہ Alibaba کے ماڈلز بھی نمایاں رہے۔

ماہرین کے مطابق، اوپن سورس مستقبل کی ٹیکنالوجی کی “سافٹ پاور” بن چکا ہے۔ یہی حکمت عملی چینی کمپنیوں کو عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانے میں مدد دے رہی ہے، جہاں وہ نہ صرف مقابلہ کر رہی ہیں بلکہ ایک دوسرے کو آگے بڑھنے میں بھی سہارا دے رہی ہیں۔

اوریجنل پوسٹ: Kelsey McClellan برائے The New York Times

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے

#AiKiDuniya, #DeepSeek, #OpenSourceAI, #ArtificialIntelligence, #TechNews, #FutureTech

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں