جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

اے آئی کی رفتار ہر آٹھ ماہ میں دگنی

9 جنوری 2026

اے آئی کی رفتار ہر آٹھ ماہ میں دگنی

اے آئی کی ترقی اب محض ایک سست رفتار تکنیکی ارتقا نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسی تیز رفتار دوڑ بن چکی ہے جس میں انسانی نظام، قوانین اور حفاظتی ڈھانچے پیچھے رہتے جا رہے ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق جدید اے آئی سسٹمز کی صلاحیتیں ہر آٹھ ماہ میں دگنی ہو رہی ہیں، اور یہی رفتار اب عالمی سطح پر سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

برطانیہ کے ایک ممتاز اے آئی سیفٹی محقق David Dalrymple نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ممکنہ طور پر “نیند میں چلتے ہوئے” ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں اے آئی سسٹمز انسانی نگرانی کے بغیر اہم انفراسٹرکچر کو کنٹرول کرنے لگیں گے۔ ان کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ خطرات موجود ہیں، بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ شاید ہمارے پاس ان کے لیے تیار ہونے کا وقت ہی نہ ہو۔

یہ انتباہ اس ڈیٹا کے بعد سامنے آیا ہے جو برطانیہ کے AI Security Institute نے اپنی پہلی Frontier AI Trends Report میں شائع کیا۔ رپورٹ کے مطابق بعض شعبوں میں اے آئی کی کارکردگی اتنی تیزی سے بہتر ہو رہی ہے کہ اسے روایتی حفاظتی نظاموں کے ذریعے قابو میں رکھنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ادارے کی جانچ کے مطابق جدید اے آئی ماڈلز اب سائبر سیکیورٹی کے اپرنٹس لیول کے کام پچاس فیصد مواقع پر کامیابی سے انجام دے رہے ہیں، جبکہ صرف دو سال پہلے یہی شرح دس فیصد سے بھی کم تھی۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ اب ایسے ماڈلز بھی سامنے آ چکے ہیں جو ماہر سطح کے سائبر ٹاسکس انجام دے سکتے ہیں، وہ کام جو عام طور پر انسانوں کو دس سال یا اس سے زیادہ تجربے کے بعد آتے ہیں۔

سب سے زیادہ تشویش ناک پیش رفت خود کو نقل کرنے یا خود کو آگے بڑھانے کی صلاحیت میں دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیلف ریپلیکیشن ٹیسٹس میں کامیابی کی شرح دو سال کے اندر پانچ فیصد سے بڑھ کر ساٹھ فیصد سے تجاوز کر گئی۔ اگرچہ محققین کے مطابق یہ سسٹمز فی الحال حقیقی دنیا میں مکمل طور پر خودمختار ہونے کے قابل نہیں، مگر ترقی کی رفتار اس خدشے کو حقیقت کے قریب لے جا رہی ہے۔

اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈیوڈ ڈیلریمپل کا کہنا ہے کہ اصل خطرہ ایسے سسٹمز سے ہے جو “انسانی کاموں کو ہم سے زیادہ مؤثر، تیز اور سستے طریقے سے انجام دے سکیں”۔ ان کے مطابق اگر معاشی اور اسٹریٹجک لحاظ سے اہم کام اے آئی کے ہاتھ میں چلے گئے تو انسانوں کے لیے کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، چاہے وہ معیشت ہو، سیکیورٹی ہو یا توانائی کے نظام۔

ان کا اندازہ ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں زیادہ تر معاشی طور پر قیمتی کام مشینیں انسانوں سے بہتر طریقے سے انجام دینے لگیں گی۔ یہاں تک کہ 2026 کے آخر تک اے آئی سسٹمز ایک دن کے برابر ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کا کام خودکار طور پر انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہو سکتا ہے جہاں اے آئی خود کو اتنی تیزی سے بہتر بنائے کہ ریگولیٹرز اور پالیسی ساز پیچھے رہ جائیں۔

اگرچہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حفاظتی اقدامات میں کچھ بہتری آئی ہے، مثلاً ماہر محققین کے لیے یونیورسل جیل بریکس تلاش کرنا پہلے کے مقابلے میں چالیس گنا زیادہ وقت لے رہا ہے، مگر اس کے باوجود ہر ماڈل میں کسی نہ کسی سطح کی کمزوریاں موجود پائی گئیں۔ یعنی مکمل محفوظ اے آئی ابھی بھی ایک حل طلب سوال ہے۔

معاشی دباؤ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ کمپنیاں تیزی سے مصنوعات لانچ کرنا چاہتی ہیں، جبکہ سائنسی سطح پر محفوظ رویے کی مکمل ضمانت دینے والی تحقیق شاید وقت پر دستیاب نہ ہو سکے۔ ایسے میں، ڈیلریمپل کے مطابق، بہترین ممکنہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ نقصانات کو کنٹرول اور محدود کرنے پر توجہ دی جائے، نہ کہ یہ فرض کر لیا جائے کہ سسٹمز خودبخود محفوظ ہوں گے۔

یہ تمام حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اے آئی کی ترقی اب صرف ایک تکنیکی چیلنج نہیں رہی، بلکہ یہ ایک سماجی، معاشی اور سیکیورٹی مسئلہ بن چکی ہے۔ اگر رفتار اور نگرانی کے درمیان یہ خلا برقرار رہا تو عدم استحکام کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین زور دے رہے ہیں کہ جدید اے آئی کے رویوں کو سمجھنے اور قابو میں رکھنے کے لیے فوری اور گہرے تکنیکی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #AISafety, #AIFuture, #AIRegulation, #TechPolicy, #AIResearch

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں