صبح کے وقت جب ہماری آنکھ کھلتی ہے تو ہمیں بعض اوقات سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ خواب کہاں ختم ہوا اور حقیقت کہاں شروع ہوئی۔ لیکن اگر یہی فرق ایک مشین کے لیے مٹ جائے؟ اگر ایک "ذہین نظام" ، جو انسانوں کے بنائے گئے ڈیٹا پر تربیت پاتا ہے ، خود سے ایسی باتیں کرنے لگے جو نہ کبھی کہی گئی ہوں، نہ لکھی گئی، اور نہ ہی دیکھی گئی ہوں؟ تو یہی وہ کیفیت ہے جسے ہم آج "ہالوسینیشن یا فریب" کہتے ہیں، مگر انسانوں کے تناظر میں نہیں، بلکہ مشینوں کی دنیا میں۔
مصنوعی ذہانت کے وہ ماڈلز جو قدرتی زبان کو سمجھتے اور پیدا کرتے ہیں، جیسے کہ "لینگویج ماڈلز" (Language Models)، بعض اوقات ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں جن کا نہ کوئی ماخذ ہوتا ہے، نہ ہی کوئی حقیقت۔ انہیں "AI hallucinations" کہا جاتا ہے، یعنی ایسی باتیں یا معلومات جو بظاہر درست نظر آتی ہیں، مگر دراصل من گھڑت ہوتی ہیں۔
فرض کریں کہ ایک طالب علم کسی مضمون پر تحقیق کر رہا ہے۔ وہ ایک AI ٹول سے پوچھتا ہے
"Who was the first person to propose the concept of 'gravitational lensing'?"
اور جواب آتا ہے
"Isaac Newton proposed this theory in his work Principia Mathematica."
اور یہاں پہلی ہالوسینیشن جنم لیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشش ثقل سے روشنی کے جھکنے کا نظریہ آئن اسٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلیٹیوٹی سے جڑا ہے۔ نیوٹن کی تحریریں روشنی کے ریفلیکشن اور ریفریکشن سے متعلق تھیں، نہ کہ کششِ ثقل کی ایسی وضاحت سے۔
تو سوال یہ نہیں کہ ماڈل کیوں غلطی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ ایسا یقین سے، اعتماد سے، بنا کسی ہچکچاہٹ کے جھوٹ کیوں بولتا ہے؟ وہ کسی کمزور طالب علم کی طرح شش و پنج میں نہیں ہوتا، وہ اپنے جوابات پر مہر لگاتا ہے ، "یقیناً"، "واضح طور پر"، "یقینی طور پر"۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان اسے عقل مند سمجھ بیٹھتا ہے۔
مشینیں ہالوسینیٹ یا فریب کاری کیوں کرتی ہیں؟ دراصل، زبان پر مبنی AI ماڈلز کسی ذہن، شعور یا سمجھ بوجھ کے حامل نہیں ہوتے۔ وہ صرف امکانات کا کھیل کھیلتے ہیں۔ جب آپ کوئی سوال لکھتے ہیں، وہ پچھلے لاکھوں کروڑوں جملوں کے سمندر سے وہ لفظ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں جو اس جملے کے اگلے ہونے کا سب سے زیادہ امکان رکھتا ہو۔
مثال کے طور پر، جب ماڈلز سے پوچھا جائے
"What are the symptoms of the fictional disease 'Arkas Syndrome'?
تو کئی بار وہ ایک سنجیدہ فہرست پیش کرتے ہیں
"Symptoms include chronic fatigue, intermittent memory loss, and severe joint pain
گویا کسی نامعلوم مرض کو ایک طبی شناخت دے دی جاتی ہے، صرف ایک سوال کے نتیجے میں۔ یا سوال کے الفاظ نے ایک وجود کو جنم دے دیا ہو۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں مصنوعی ذہانت، تخلیق اور حقیقت کے درمیان کی لکیر کو مٹانے لگتی ہے۔ اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک مشین کسی غیر موجود شے کو اتنے یقین سے بیان کرے کہ انسان اس پر یقین کر لے، تو پھر وہ شے غیر موجود کہلائے گی یا موجود؟
تاریخ میں شاید ہی کسی انسان نے ایسے اعتماد سے جھوٹ بولا ہو، جتنا یہ ماڈل بولتے ہیں ، کیونکہ ان کے اندر شک کی گنجائش نہیں۔ ایک انسانی طالبعلم جب جواب نہیں جانتا، تو وہ "پتا نہیں" کہتا ہے۔ ایک ماہر کبھی کبھار کہہ دیتا ہے: "مجھے یاد نہیں"۔ مگر AI؟ وہ تو کبھی نہیں کہتا: "میں نہیں جانتا"۔ یہ مشینوں کا تکبر ہے، یا شاید ہماری اپنی نارسائی کا عکس، جو ہم نے کوڈ کی صورت میں تراشا ہے۔
اس ہالوسینیشن کی ایک اور حیرت انگیز شکل وہ ہے جس میں AI ماڈل خودساختہ حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ ایک طالب علم نے جب پوچھا
"Give me a citation for a study on dolphin language acquisition by Dr. Susan Barrett",
تو اے آئی نے پورا حوالہ گھڑ دیا ، مصنف، سن، جریدہ، صفحات۔ مگر جب طالبعلم نے لائبریری میں وہ مقالہ تلاش کیا، تو معلوم ہوا وہ مضمون سرے سے موجود ہی نہ تھا۔
اور یہ مسئلہ صرف علم یا تحقیق تک محدود نہیں۔ AI ماڈلز نے عدالتوں، صحافت، طب، حتیٰ کہ تھراپی جیسے حساس شعبوں میں بھی ہالوسینیٹ کیا ہے۔ ایک کیس میں، امریکی وکیل نے اپنی پٹیشن لکھوانے کے لیے ChatGPT استعمال کیا ، جس نے عدالتی فیصلوں کے جعلی حوالے گھڑ دیے۔ جب عدالت نے پوچھا، وہ کہاں ہیں؟ تو وکیل خود حیران رہ گیا ، "یہ تو AI نے دیے تھے!" مگر قانون کی دنیا میں لاعلمی عذر نہیں۔
اسی طرح، کچھ مریضوں کو AI ہیلتھ چیٹ بوٹس نے غلط دوائیں تجویز کیں ، یہاں تک کہ خودکشی کی تجاویز بھی کہیں کہیں سامنے آئیں، اگرچہ وہ اتفاقیہ اور نادر واقعات تھے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ کتنے بار ہوا، سوال یہ ہے کہ ہو کیسے گیا؟ اور ہم نے ایسا نظام بنایا کیوں، جس میں غلطی کے لیے کوئی ہچکچاہٹ نہیں؟
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ مسئلہ صرف "ٹیکنیکل" نہیں، یہ اخلاقی بھی ہے اور فلسفیانہ بھی۔ کیونکہ جب مشین فریب دینے لگے، اور ہم ان فریبوں کو سچ سمجھنے لگیں، تو ہماری اجتماعی عقل کہاں جائے گی؟کیا ہمارا اگلا مورخ، محقق یا استاد ایک مشین ہوگا جو کچھ بھی گھڑ سکتا ہے ، اور ہم آنکھ بند کر کے مان لیں گے؟ ایک اور زاویے سے دیکھیں، توشاید یہ سب کوئی سافٹ ویئر بگ نہیں ، بلکہ ہماری تہذیب کا آئینہ ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں یقین کرنا آسان ہے، تحقیق کرنا مشکل۔ اور AI ماڈلز اسی رجحان کا عکس ہیں: وہ ہمیں وہی دیتے ہیں جو ہم سننا چاہتے ہیں، وہ نہیں جو شاید حقیقت ہو۔
اب سوال یہ ہےکہ اس کا حل کیا ہے؟ ہمیں یہ ماڈلز بند نہیں کرنے، بلکہ ان کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان کی زبان میں شک داخل کرنا ہوگا، احتیاط، سوال، اور “نہیں جانتا” کہنے کی اہلیت۔ کیونکہ جو شخص (یا مشین) ہر سوال کا جواب دے، اس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ساتھ ہی، ہمیں خود بھی بدلنا ہوگا۔ ہمیں علم کی وہ ثقافت واپس لانا ہوگی جو سوال سے شروع ہوتی ہے اور تحقیق پر ختم۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر لکھا ہوا لفظ سچ نہیں ہوتا، ہر "لنک" علم نہیں، اور نا ہی ہر "حوالہ" معتبر ہوتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ذہانت، مصنوعی ہو یا انسانی، تبھی معتبر ہے جب وہ سچ کے سامنے جھکنا جانتی ہو۔
آخر میں یہ سوال بھی بنتا ہے کہ اگر مشین سچ اور جھوٹ میں فرق نہ کر سکے، تو کیا اس کےمہیا کردہ "ڈیٹا" کو ہم علم کہہ سکتے ہیں؟ یا صرف بےترتیب الفاظ کا فریب؟ اور اگر ہم اسے علم کہنے لگیں، تو کیا ہم خود ہالوسینیٹ نہیں کر رہے؟
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔