جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

اے آئی کی اصل کہانی 2025 میں شروع ہوئی.

31 دسمبر 2025

اے آئی کی اصل کہانی 2025 میں شروع ہوئی.

2025 کو اگر بڑے لینگوئج ماڈلز کی تاریخ میں ایک جملے میں بیان کیا جائے تو یہ وہ سال تھا جب ترقی صرف رفتار یا سائز کی نہیں رہی بلکہ طریقۂ کار اور تصور کی سطح پر تبدیلی آئی۔ اس سال کئی ایسی پیش رفتیں ہوئیں جنہوں نے نہ صرف ماڈلز کی صلاحیت کو بدلا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ ہم کس قسم کی ذہانت کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں اور اسے کس زاویے سے سمجھنا چاہیے۔

اس سال سب سے نمایاں تبدیلی تربیت کے طریقے میں سامنے آئی، جہاں Reinforcement Learning from Verifiable Rewards نے عملی طور پر ایک نیا معیار قائم کیا۔ اس سے پہلے لمبے عرصے تک پری ٹریننگ، سپروائزڈ فائن ٹیوننگ اور انسانی فیڈ بیک پر مبنی ری اِنفورسمنٹ لرننگ ہی بنیادی ستون رہے تھے۔ 2025 میں ایسے خودکار انعامی نظام متعارف ہوئے جنہیں مشین خود جانچ سکتی ہے، خاص طور پر ریاضی اور کوڈنگ جیسے شعبوں میں۔ اس کے نتیجے میں ماڈلز نے خود سے ایسے حل نکالنا شروع کیے جو انسان کو بظاہر “ریزننگ” جیسے محسوس ہوتے ہیں، یعنی مسئلے کو چھوٹے حصوں میں بانٹنا، درمیانی حساب لگانا اور مختلف راستے آزمانا۔ یہ وہ صلاحیتیں تھیں جو پہلے کے طریقوں سے واضح طور پر حاصل کرنا مشکل تھا، کیونکہ یہ طے کرنا ہی مشکل تھا کہ درست سوچنے کا راستہ کیا ہونا چاہیے۔

اسی تبدیلی نے یہ بھی دکھایا کہ اصل پیش رفت اب بڑے ماڈلز بنانے سے زیادہ لمبے اور گہرے ٹریننگ رنز میں ہو رہی ہے۔ زیادہ کمپیوٹ جو پہلے پری ٹریننگ کے لیے مختص ہوتا تھا، اب اسی نئے مرحلے میں خرچ ہونے لگا، جس سے بظاہر سائز تو وہی رہا مگر صلاحیت میں واضح فرق محسوس ہونے لگا۔ اسی کے ساتھ ایک نیا تصور سامنے آیا، یعنی ٹیسٹ ٹائم پر زیادہ سوچنے کی گنجائش دینا، جس سے ماڈل لمبے جوابات اور زیادہ گہرے حل نکالنے کے قابل ہو گئے۔

2025 میں ایک اور فکری تبدیلی یہ رہی کہ ان ماڈلز کو جانوروں یا انسانوں جیسی ذہانت کے فریم میں دیکھنا کم معنی خیز محسوس ہونے لگا۔ زیادہ مناسب تشبیہ یہ بنی کہ ہم کسی ارتقائی مخلوق کو نہیں بلکہ ایک مختلف نوعیت کی ہستی کو “بلاتے” ہیں، جو ہماری تحریروں، مسائل اور انعامی نظاموں کے مطابق خود کو ڈھالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ماڈلز کی ذہانت غیر ہموار یا ناہموار دکھائی دیتی ہے، ایک ہی وقت میں غیر معمولی صلاحیت اور حیران کن سادہ غلطیاں۔ یہی پہلو بینچ مارکس پر اعتماد کو بھی کمزور کرتا گیا، کیونکہ وہ خود ایسے ماحول بن چکے ہیں جہاں ماڈلز خاص طور پر تربیت پا کر اچھا اسکور کر لیتے ہیں، بغیر اس کے کہ مجموعی فہم میں حقیقی بہتری ہو۔

ایپلی کیشنز کی سطح پر بھی 2025 ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جہاں Cursor جیسے ٹولز نے یہ دکھایا کہ لینگوئج ماڈل ایپس کی ایک نئی تہہ وجود میں آ رہی ہے۔ یہاں ماڈل صرف جواب دینے والا نہیں رہتا بلکہ سیاق و سباق کو سنبھالتا ہے، متعدد کالز کو ترتیب سے جوڑتا ہے، انسان کے لیے مخصوص انٹرفیس فراہم کرتا ہے اور خودمختاری کی حد متعین کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ اس سے یہ تصور مضبوط ہوا کہ بنیادی ماڈلز شاید عمومی صلاحیتیں فراہم کریں گے، مگر مخصوص شعبوں میں حقیقی کام انہی ایپس کے ذریعے ہوگا جو انہیں منظم اور فعال بنائیں گی۔

اسی تسلسل میں وہ لمحہ بھی آیا جب اے آئی صرف کلاؤڈ میں موجود سروس نہیں رہی بلکہ مقامی کمپیوٹر پر “رہنے” لگی۔ ایسے ایجنٹس سامنے آئے جو مقامی ڈیٹا، فائلز اور ٹولز کے ساتھ براہِ راست کام کر سکتے ہیں۔ یہ تجربہ اس خیال سے مختلف تھا کہ سب کچھ کسی دور دراز سرور پر چل رہا ہو، اور اس نے انسان اور مشین کے تعلق کو زیادہ قریبی اور عملی بنا دیا۔

2025 میں ایک اور اصطلاح نے خاص توجہ حاصل کی، جسے vibe coding کہا جانے لگا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اب پروگرامنگ صرف کوڈ لکھنے کا عمل نہیں رہی بلکہ خیال بیان کرنے کا طریقہ بن گئی۔ لوگ عام زبان میں یہ بتانے لگے کہ انہیں کیا بنانا ہے، اور کوڈ ایک عارضی، بدلنے والا اور کبھی کبھار ایک بار کے استعمال کے لیے لکھا جانے لگا۔ اس سے نہ صرف نئے لوگوں کے لیے سافٹ ویئر بنانا ممکن ہوا بلکہ ماہرین بھی وہ کام کرنے لگے جو پہلے وقت یا محنت کے باعث ممکن نہ تھے۔

آخر میں، یوزر انٹرفیس کے تصور میں بھی ایک اہم اشارہ سامنے آیا۔ چیٹ کی صورت میں بات کرنا اگرچہ آسان ہے، مگر انسان فطری طور پر بصری اور مکانی انداز میں معلومات لینا پسند کرتا ہے۔ اسی لیے ایسے ماڈلز اور ٹولز ابھرنے لگے جو صرف متن نہیں بلکہ تصاویر، خاکے، سلائیڈز اور بصری ڈھانچے کے ذریعے بات کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ لینگوئج ماڈلز کے لیے بھی ویسا ہی گرافیکل دور آ سکتا ہے جیسا کمپیوٹرز نے دہائیوں پہلے دیکھا تھا۔

مجموعی طور پر 2025 ایک ایسا سال ثابت ہوا جس میں لینگوئج ماڈلز توقع سے کہیں زیادہ طاقتور بھی نکلے اور کہیں زیادہ محدود بھی۔ اس کے باوجود ان کی افادیت واضح رہی اور یہ احساس مضبوط ہوتا گیا کہ ہم نے ابھی ان کی صلاحیتوں کا بہت چھوٹا حصہ ہی استعمال کیا ہے۔ میدان وسیع ہے، خیالات بے شمار ہیں اور ترقی تیز بھی ہے اور نامکمل بھی۔ یہی تضاد اس دور کی اصل پہچان بن چکا ہے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے

#AIKiDuniya, #LLMs, #ArtificialIntelligence, #AI2025, #FutureOfAI

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں