دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنریٹیو اے آئی نہ صرف ہماری معلومات تک رسائی کا دروازہ بن چکی ہے بلکہ آہستہ آہستہ اس دروازے کا واحد نگہبان بھی بنتی جا رہی ہے۔ مگر اسی جگہ پر سب سے بڑا خطرہ چھپا ہے۔ معلومات کے اس ہائی وے میں ایسے خلا پیدا ہو رہے ہیں جنہیں ماہرین عالمی knowledge collapse کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ یعنی ایک ایسا دور جہاں انسان کو یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ وہ کیا نہیں جانتا۔
یہ حقیقت اب سامنے آ رہی ہے کہ آن لائن دنیا انسانوں کے علم کا مکمل عکس نہیں۔ بے شمار روایتی، مقامی اور زبانی علم کبھی ڈیجیٹل نہیں ہوا۔ یہ وہ علم ہے جو نسلوں کے تجربے سے تراشا گیا، لیکن چونکہ اسے ویب پر جگہ نہیں ملی، اس لیے جدید اے آئی اسے دیکھ ہی نہیں سکتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ GenAI آج بھی بنیادی طور پر انہی زبانوں، روایتوں اور اداروں کے علم کو مضبوط کرتی ہے جو پہلے سے طاقتور ہیں، خصوصاً انگریزی اور مغربی علمی ڈھانچے۔
ماہرین کے مطابق Common Crawl جیسی ڈیٹا ریپوزٹری کے 300 ارب ویب پیجز میں انگریزی کا حصہ 45 فیصد ہے، جبکہ دنیا میں اس زبان کے بولنے والے صرف 19 فیصد ہیں۔ اس کے برعکس ہندی/اردو دنیا کی سب سے بڑی زبانوں میں شامل ہے مگر ڈیٹا میں اس کا حصہ صرف اعشاریہ دو فیصد کے قریب ہے۔ تامل زبان، جو کروڑوں افراد بولتے ہیں، محض صفر اعشاریہ صفر چار فیصد ڈیٹا میں موجود ہے۔ ایسی زبانوں کے لیے اے آئی کے ذہن میں جگہ بن ہی نہیں پاتی۔
زبانیں صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ نسلوں کے علم، رسم و رواج، علاجی طریقوں، ماحول کے ساتھ تعلق، مقامی نباتات، پانی کے نظام، فنِ تعمیر اور روحانی تجربات کا پورا جہان اٹھائے پھرتی ہیں۔ جب کوئی زبان ڈیجیٹل دنیا میں غائب ہو، تو اس کا اندر چھپا علم بھی غیر مرئی ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں زرعی تکنیک، موسمی علم، پودوں کی شناخت، پانی کے نظم و نسق، اور روایتی علاج جیسے علوم تیزی سے معدوم ہو رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ایک اور خاموش مسئلہ جنم لے رہا ہے۔ جنریٹیو اے آئی انسانوں کی طرح پوری سوچ نہیں سمجھتی، بلکہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ اور ideas کو ترجیح دیتی ہے۔ جب ڈیٹا میں pizza کا ذکر pasta یا biryani سے زیادہ ہے تو ماڈل زیادہ تر pizza ہی منتخب کرے گا۔ اسی رجحان کو mode amplification کہا جاتا ہے، جہاں مشہور تصورات کئی گنا بڑھ کر سامنے آتے ہیں جبکہ کم معروف نظریات مزید دب جاتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ ایک بڑے مجمع میں سب سے اونچی آواز ہی سنتے رہیں، باقی سب خاموشی میں گم ہو جائیں۔
یہ مسئلہ صرف ڈیٹا تک محدود نہیں۔ Reinforcement Learning جیسے طریقے، کارپوریٹ صارفین کی ترجیحات، اور مغربی اداروں کا علمی غلبہ پوری اے آئی سوچ کو ایک سمت میں دھکیل رہا ہے۔ اس لیے اے آئی ایسے جوابات دینے میں ماہر ہے جو طاقتور علمی بیرونی دنیا کی ترجیحات کے مطابق ہوں۔ مگر جہاں مقامی اور روایتی علم کی بات آئے، وہاں یہ اکثر خاموش یا غلط ہوتی ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں knowledge collapse کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ اے آئی پر انحصار جتنا بڑھے گا، انسان اتنا ہی کم دریافت کرے گا کہ اس کے آس پاس کتنا علم غائب ہے۔ نئی نسلیں انہی تصورات تک محدود ہو جائیں گی جنہیں اے آئی جانتی ہو، اور جنہیں وہ بار بار دہراتی ہو۔ یوں ایک ایسا چکر شروع ہوتا ہے جہاں علم کا تنوع سکڑتا جاتا ہے۔
دنیا کے بہت سے خطوں میں مقامی علم صدیوں سے موسمیاتی چیلنجوں، زراعت، عمارتوں کے ڈھانچوں اور پائیدار زندگی کے اصولوں کی بنیاد رہا ہے۔ مگر جدید دور میں جب یہ زبانیں ڈیجیٹل نہ ہو سکیں، تو یہ علم بھی ساتھ ہی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ بھارت کے شہر بنگلور کی مثال سامنے ہے جہاں روایتی جھیلوں، پانی کے بہاؤ کے نظام، اور مقامی کمیونٹی Neeruganti کا علم آج بھی شہر کو بحران سے بچا سکتا ہے، مگر بیشتر معلومات صرف بزرگوں کے سینوں میں باقی ہیں، ڈیٹا بیسوں میں نہیں۔
ایسا ہی مسئلہ زرعی دنیا میں بھی ہے۔ مقامی حل مؤثر ہو سکتے ہیں، مگر چونکہ وہ عالمی اداروں کی شائع کردہ تحقیقات میں شامل نہیں، اس لیے اے آئی بھی انہیں نظرانداز کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں کسانوں کو ملنے والا مشورہ اکثر مقامی حقیقتوں سے میل نہیں کھاتا۔
اصل خطرہ یہ ہے کہ ہم جس رفتار سے GenAI اپنانے جا رہے ہیں، اسی رفتار سے تاریخ، زبان، تنوع، ماحول اور انسانی تجربے کے ہزاروں رنگ مٹتے جا رہے ہیں۔ اس دنیا میں جہاں ماڈلز پر اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں، شاید سب سے زیادہ قیمتی چیز وہ ہے جسے اے آئی آج بھی نہیں جانتی، کیونکہ کسی نے اسے ڈیجیٹل نہیں بنایا۔
قدیم علم ہمیشہ کامل نہیں ہوتا، لیکن اس کی غیبت انسانیت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس لیے بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا ہم ٹیکنالوجی کے مستقبل کی طرف بڑھتے ہوئے اس علم کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں جو ہماری زمین، موسم، صحت اور سماج کو صدیوں سے زندہ رکھے ہوئے ہے؟ یا ہم صرف وہی جانتے رہیں گے جو ماڈل ہمیں دکھاتے رہیں گے، جب تک کہ ہمارے علم کی روشنی صرف ایک ہی سمت میں نہ قید ہو جائے؟
اوریجنل آرٹیکل:
اصل انگریزی آرٹیکل The Guardian پر شائع ہوا
"What AI doesn’t know: we could be creating a global ‘knowledge collapse’"
مصنف Deepak Varuvel Dennison
"یہ تحریر اے آئی کی دنیا فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے"