مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر جاری عالمی بحث میں ایک اہم اور سنجیدہ آواز Google DeepMind کے سربراہ ڈیمس ہسابس کی ہے، جنہوں نے ڈیووس میں واضح انداز میں کہا کہ موجودہ بڑے لینگویج ماڈلز، جیسے ChatGPT، حقیقی سائنسی بریک تھرو حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ہسابس کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ یہ ماڈلز طاقتور نہیں، بلکہ یہ کہ ان کے پاس “ورلڈ ماڈلز” موجود نہیں ہیں۔ یعنی وہ دنیا کو سبب و نتیجے، طبیعی قوانین اور فزکس کی بنیاد پر سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کے الفاظ میں، جب تک اے آئی کسی عمل کے پیچھے موجود وجہ کو نہیں سمجھتی، وہ محض الفاظ جوڑ سکتی ہے، دریافت نہیں کر سکتی۔
یہ مؤقف براہِ راست OpenAI کی اُس حکمتِ عملی پر سوال اٹھاتا ہے جو بڑے ماڈلز کو مزید بڑا اور زیادہ ڈیٹا فراہم کرنے پر مبنی ہے۔ ہسابس کا کہنا ہے کہ یہ راستہ اب ایک بنیادی دیوار سے ٹکرا چکا ہے، جہاں صرف سکیل بڑھانے سے اصل ذہانت پیدا نہیں ہو رہی۔
ڈیپ مائنڈ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے Genie 3 جیسے سسٹمز پر کام کر رہا ہے، جو تین جہتی، انٹرایکٹو ماحول تخلیق کرتے ہیں۔ ابتدائی تحقیق کے مطابق، ایسے ہائبرڈ ماڈلز جو لینگویج ماڈلز کے ساتھ فزیکل اور کازل سمجھ بوجھ کو جوڑتے ہیں، خالص LLMs کے مقابلے میں reasoning ٹاسکس میں 20 سے 30 فیصد بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
ہسابس نے مصنوعی عمومی ذہانت یعنی AGI کے حوالے سے بھی محتاط مگر واضح انداز میں بات کی۔ ان کے مطابق 2030 تک AGI آنے کا امکان پچاس فیصد کے قریب ہے، نہ یقینی کامیابی، نہ بعید از قیاس خواب۔ تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ عالمی مقابلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، خاص طور پر چین میں۔
ان کا کہنا تھا کہ چینی اے آئی کمپنیاں، جن میں ByteDance بھی شامل ہے، تکنیکی لحاظ سے شاید محض چھ ماہ پیچھے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ آیا وہ محض تیز رفتار نقل سے آگے بڑھ کر اصل جدت پیدا کر سکیں گی یا نہیں۔
یہ گفتگو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اے آئی کا اگلا مرحلہ صرف بڑے ماڈلز نہیں، بلکہ دنیا کو سمجھنے والی مشینوں کا ہوگا۔ جہاں لفظ نہیں، بلکہ فہم فیصلہ کرے گی۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #AGI, #DeepMind, #AIResearch, #FutureOfAI