جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

اے آئی کو اب انسان کرائے پر درکار ہیں 🤖

5 فروری 2026

اے آئی کو اب انسان کرائے پر درکار ہیں 🤖

گزشتہ چند دنوں میں اے آئی ایجنٹس کے گرد بننے والا شور اگر دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے ہم کسی سائبرپنک ناول کے صفحوں میں داخل ہو رہے ہوں۔ اگرچہ یہ سمت مکمل طور پر خیالی بھی نہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ابھی کسی مکمل ڈیجیٹل اندھیر نگری میں نہیں پہنچے۔ اس کے باوجود ٹیک دنیا کو ایک نیا خیال مل چکا ہے جس نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے، اور وہ ایک ویب سائٹ ہے جس کا نام Rentahuman.ai ہے۔

یہ پلیٹ فارم ایک عجیب مگر سنجیدہ دعوے کے ساتھ سامنے آیا ہے، جہاں انسان اپنی جسمانی محنت اے آئی ایجنٹس کو کرائے پر فراہم کر سکتے ہیں۔ اس خیال کے خالق کرپٹو سافٹ ویئر انجینئر الیگزینڈر لائٹپلو ہیں، جنہوں نے OpenClaw اور Moltbook کی غیر متوقع مقبولیت کے بعد اس منصوبے کو متعارف کروایا۔ ویب سائٹ خود کو “اے آئی کے لیے حقیقی دنیا کی تہہ” قرار دیتی ہے، یعنی وہ جگہ جہاں روبوٹس اور خودکار نظام انسانوں کے جسمانی وجود کے محتاج ہو جاتے ہیں۔

عملی طور پر یہ تصور ٹاسک ریبٹ جیسا محسوس ہوتا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ یہاں کام مانگنے والا کوئی انسان نہیں بلکہ ایک خودکار ایجنٹ ہوتا ہے۔ اب تک دکھائے گئے کام نسبتاً سادہ ہیں، جیسے پیکج وصول کرنا، بورڈ اٹھا کر کھڑا ہونا یا پھول پہنچانا۔ ویب سائٹ کے مطابق اس وقت ہزاروں افراد نے خود کو “کرائے پر دستیاب انسان” کے طور پر رجسٹر کر رکھا ہے، جبکہ فعال ایجنٹس کی تعداد اس کے مقابلے میں کہیں کم نظر آتی ہے۔

یہاں سب سے دلچسپ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ پورا خیال طنز ہے یا واقعی ایک نئے لیبر ماڈل کی سنجیدہ کوشش۔ پلیٹ فارم کی زبان اور انداز کسی مزاحیہ تجربے سے زیادہ ایک پختہ منصوبے کی جھلک دیتا ہے۔ “میٹ اسپیس” جیسے الفاظ اور ایسے جملے جو انسان کو محض ایک جسمانی وسیلہ بنا کر پیش کرتے ہیں، ایک غیر مانوس مگر فکر انگیز مستقبل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اس ماڈل کے ساتھ خدشات بھی کم نہیں۔ ادائیگیوں کے لیے کرپٹو والیٹس کا استعمال، گمنام ایجنٹس سے کام لینا، اور یہ حقیقت کہ ادائیگیاں واپس نہیں لی جا سکتیں، ان لوگوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں جو حقیقی دنیا میں یہ کام انجام دیں گے۔ اعتماد کا پورا بوجھ انسان کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے، جبکہ تحفظ کے مؤثر نظام ابھی دکھائی نہیں دیتے۔

کرپٹو اور اے آئی کے شوقین حلقے اس تصور کو خودمختار معیشت کی طرف ایک قدرتی قدم قرار دے رہے ہیں، جہاں انسان اور مشین براہ راست لین دین کریں گے۔ مگر حالیہ تجربات یہ بھی دکھا چکے ہیں کہ تیزی سے بننے والے ایسے پلیٹ فارمز میں احتیاط نہ کی جائے تو نتائج پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ Rent-a-Human ایک نئے روزگار ماڈل کی بنیاد ہے یا محض ایک عارضی تجربہ، مگر فی الحال دانشمندی اسی میں ہے کہ جوش کے ساتھ ساتھ ہوشیاری بھی اختیار کی جائے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #AIAgents, #FutureOfWork, #HumanAndAI, #TechTrends

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں