مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس کے بارے میں ایک نیا اور تشویشناک پہلو سامنے آ رہا ہے، جس پر اب باقاعدہ تحقیقی توجہ دی جا رہی ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس نہ صرف غلط معلومات پھیلا رہے ہیں بلکہ ایسے رویے بھی اختیار کر رہے ہیں جو انسانی معاشروں میں گپ شپ یا بدنامی کے زمرے میں آتے ہیں، اور یہ سب کچھ ان سماجی حدود کے بغیر ہو رہا ہے جو عام طور پر انسانوں کے درمیان گفتگو کو قابو میں رکھتی ہیں۔
یہ تحقیق برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے محققین نے کی ہے اور اسے جریدے Ethics and Information Technology میں شائع کیا گیا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ChatGPT، Claude اور Gemini جیسے چیٹ بوٹس محض معلوماتی غلطیاں نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات افراد کے بارے میں منفی آراء، بے بنیاد الزامات اور کردار کشی پر مبنی بیانات بھی پیدا کرتے ہیں، جن کے حقیقی دنیا میں سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
تحقیق کی شریک مصنف ڈاکٹر لوسی اوسلر کے مطابق چیٹ بوٹس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بظاہر پُراعتماد اور بااختیار لہجے میں بات کرتے ہیں۔ چونکہ ان کے پاس وسیع ڈیٹا سیٹس ہوتے ہیں اور درست معلومات کے ساتھ غلط باتیں بھی یکساں انداز میں پیش کی جاتی ہیں، اس لیے صارفین کے لیے یہ فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سی بات حقیقت پر مبنی ہے اور کون سی محض من گھڑت۔ یہی خصوصیت چیٹ بوٹس کے ذریعے پھیلنے والی گمراہ کن یا نقصان دہ باتوں کو زیادہ خطرناک بنا دیتی ہے۔
محققین نے اے آئی گپ شپ کی دو اقسام کی نشاندہی کی ہے۔ پہلی وہ صورت ہے جس میں چیٹ بوٹ صارف کو کسی تیسرے فرد کے بارے میں منفی یا غیر مصدقہ باتیں بتاتا ہے۔ دوسری اور زیادہ خطرناک قسم وہ ہے جس میں چیٹ بوٹس آپس میں ایک دوسرے سے ایسی معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق بوٹ سے بوٹ کے درمیان پھیلنے والی گپ شپ کسی سماجی دباؤ یا اخلاقی روک ٹوک کے بغیر آگے بڑھتی ہے، جس سے باتیں بڑھا چڑھا کر بیان کی جاتی ہیں اور ان کا دائرہ خاموشی سے وسیع ہوتا جاتا ہے۔
حقیقی دنیا میں اس کے اثرات پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔ ایک معروف امریکی صحافی کے بارے میں مختلف اے آئی سسٹمز نے اس کے کام اور نیت پر منفی تبصرے اور حتیٰ کہ ذاتی نوعیت کی نفرت آمیز باتیں پیدا کیں، حالانکہ ان باتوں کی کوئی ٹھوس بنیاد موجود نہیں تھی۔ اسی طرح آسٹریلیا میں ایک میئر کے بارے میں چیٹ بوٹ کی جانب سے رشوت اور قید کی جھوٹی کہانی گھڑی گئی، جبکہ حقیقت میں وہ اس اسکینڈل کو بے نقاب کرنے والے شخص تھے۔ ایک اور کیس میں ایک ریڈیو میزبان پر غیر منافع بخش ادارے سے رقم خردبرد کرنے کا غلط الزام لگایا گیا۔
محققین ان نقصانات کو محض معلوماتی غلطی نہیں بلکہ “ٹیکنو سوشل ہارم” قرار دیتے ہیں، یعنی ایسا نقصان جو بنیادی طور پر سماجی نوعیت کا ہوتا ہے اور آن لائن دنیا سے نکل کر حقیقی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ گپ شپ ان افراد کو نشانہ بناتی ہے جو اس گفتگو میں موجود بھی نہیں ہوتے، اور اس کے نتیجے میں ساکھ کو نقصان، شرمندگی اور بعض اوقات سماجی بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ جیسے جیسے چیٹ بوٹس کو زیادہ ذاتی اور قریبی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ویسے ویسے صارفین کی جانب سے جان بوجھ کر گپ شپ یا افواہیں بوٹس میں ڈالنے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ میموری فیچرز، وائس موڈز اور کسٹم پرسنالٹیز جیسے عناصر صارف اور بوٹ کے درمیان جذباتی تعلق کو مضبوط بناتے ہیں، جس کے نتیجے میں صارفین بوٹس کی باتوں پر زیادہ اعتماد کرنے لگتے ہیں، چاہے وہ باتیں نقصان دہ ہی کیوں نہ ہوں۔
محققین خبردار کرتے ہیں کہ جیسے جیسے اے آئی سسٹمز کو ملازمت، رہائش، صحت اور دیگر حساس فیصلوں میں استعمال کیا جائے گا، ویسے ویسے اس قسم کی اے آئی گپ شپ کے اثرات مزید گہرے اور وسیع ہو سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ محض ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داری اور اخلاقی حدود کا سوال بن چکا ہے، جس پر فوری اور سنجیدہ توجہ دینا ناگزیر ہو گیا ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AIKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #AIEthics, #TechNews, #DigitalSociety