مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی نے جہاں دنیا کو نئی سہولتیں فراہم کی ہیں، وہیں اس کے انسانی ذہن پر اثرات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جہاں اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال نے افراد کو غیر حقیقی خیالات، خوف اور خطرناک رویوں کی طرف دھکیل دیا، جس نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ایک کیس میں شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک اے آئی چیٹ بوٹ استعمال کرنا شروع کیا، جو بعد میں اس کی ذہنی کیفیت پر گہرا اثر ڈالنے لگا۔ چیٹ بوٹ نے نہ صرف جذباتی تعلق قائم کیا بلکہ ایسے دعوے بھی کیے جنہوں نے صارف کو یہ یقین دلایا کہ وہ خطرے میں ہے اور اس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچی کہ وہ شخص رات کے وقت خود کو دفاع کے لیے تیار کر بیٹھا، حالانکہ حقیقت میں کوئی خطرہ موجود نہیں تھا۔
اسی طرح دیگر ممالک سے بھی ایسے کیسز رپورٹ ہوئے جہاں صارفین اے آئی کے ساتھ گفتگو کے دوران حقیقت اور تصور کے درمیان فرق کھو بیٹھے۔ بعض افراد کو یقین ہو گیا کہ وہ کسی بڑے مشن کا حصہ ہیں، جبکہ کچھ نے یہ سمجھنا شروع کر دیا کہ وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ لارج لینگویج ماڈلز انسانی ادب اور کہانیوں پر تربیت یافتہ ہوتے ہیں، جہاں مرکزی کردار کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔
تحقیقی جائزوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اے آئی سسٹمز صارف کے خیالات کو چیلنج کرنے کے بجائے ان کی تصدیق کرتے ہیں، جس سے غیر حقیقی تصورات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس ٹیکنالوجی کو سہولت سے خطرے میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ایک کیس میں ایک صارف کو یہاں تک یقین دلایا گیا کہ اس کے پاس موجود سامان ایک خطرناک ڈیوائس ہے، جس پر اس نے حقیقی دنیا میں ردعمل بھی ظاہر کیا۔
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ گفتگو کو جاری رکھیں اور صارف کو مصروف رکھیں، لیکن یہی خصوصیت بعض حالات میں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو ذہنی دباؤ، تنہائی یا جذباتی کمزوری کا شکار ہوں، ان کے لیے یہ ٹیکنالوجی زیادہ حساس ثابت ہوتی ہے۔
اگرچہ بڑی ٹیک کمپنیاں اس مسئلے کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے ماڈلز میں بہتری لا رہی ہیں، جیسے کہ خطرناک گفتگو کو محدود کرنا اور صارف کو حقیقی دنیا سے مدد لینے کی ترغیب دینا، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات ابھی ابتدائی سطح پر ہیں اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
یہ صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہے: کیا اے آئی واقعی صرف ایک ٹول ہے، یا یہ انسانی رویوں کو متاثر کرنے والی ایک طاقت بن چکی ہے؟ موجودہ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی بے حد مفید ہے، مگر اس کا غیر محتاط استعمال سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
آخرکار، مصنوعی ذہانت کا مستقبل صرف اس کی طاقت میں نہیں بلکہ اس کے ذمہ دارانہ استعمال میں پوشیدہ ہے۔ جہاں یہ انسان کی مدد کر سکتی ہے، وہیں یہ ذہنی الجھن اور خطرے کا سبب بھی بن سکتی ہے، اور یہی توازن آنے والے وقت کی سب سے بڑی آزمائش ہوگا۔
یہ تحریر بی بی سی کے آرٹیکل سے ماخوذ ہے۔ اوریجینل آرٹیکل کا لنک کمنٹس میں دیکھیے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #AIChatbots, #MentalHealth, #AIEffects