مصنوعی ذہانت اور انسانی دماغ کے درمیان مماثلت پر ہونے والی نئی تحقیق نے ایک غیر معمولی تصویر پیش کی ہے۔ دو حالیہ مطالعات کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس کو چلانے والے لینگویج ماڈلز نہ صرف زبان کو سمجھنے کے عمل میں انسانی دماغ سے مشابہت رکھتے ہیں بلکہ وہ سماجی تعصبات بھی اسی طرح جذب کر لیتے ہیں جیسے انسان کرتے ہیں۔
سائنسی جریدے Nature Communications میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی دماغ بولی جانے والی زبان کو مرحلہ وار انداز میں پروسیس کرتا ہے۔ یہ طریقہ کار بڑی لینگویج ماڈلز کی تہہ در تہہ ساخت سے حیرت انگیز حد تک ملتا جلتا ہے۔ اس تحقیق کی قیادت عبرانی یونیورسٹی یروشلم کے ڈاکٹر ایریل گولڈسٹین نے کی، جن کے ساتھ Google Research کے ڈاکٹر ماریانو شائن اور پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہرین شامل تھے۔ مطالعے میں شرکاء کے دماغی سگنلز اس وقت ریکارڈ کیے گئے جب وہ تیس منٹ کا ایک پوڈکاسٹ سن رہے تھے۔
نتائج کے مطابق ابتدائی دماغی ردعمل زبان کے بنیادی اجزا پر مرکوز تھے، بالکل اسی طرح جیسے اے آئی ماڈلز کی ابتدائی تہیں الفاظ کی سادہ خصوصیات پر کام کرتی ہیں۔ بعد کے مراحل میں دماغی سرگرمی ان گہری تہوں سے مماثل نظر آئی جو سیاق و سباق اور معنی کو یکجا کرتی ہیں۔ خاص طور پر دماغ کے بروکا ایریا میں یہ ہم آہنگی نمایاں تھی، جو زبان اور گفتار کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ نتائج زبان کو محض علامتی قواعد کے ذریعے سمجھنے کے روایتی نظریات کو چیلنج کرتے ہیں۔
دوسری جانب University of Vermont کے محققین کی ایک علیحدہ تحقیق نے اے آئی ماڈلز میں سماجی تعصب کے پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ یہ مطالعہ arXiv پر شائع ہوا، جس میں مختلف بڑے لینگویج ماڈلز کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ ماڈلز بھی انسانوں کی طرح اپنے گروہ کے حق میں جھکاؤ اور دوسرے گروہوں کے خلاف منفی رویے ظاہر کرتے ہیں۔ سیاسی شناخت دیے جانے پر ماڈلز کے ردعمل میں بھی واضح فرق دیکھا گیا، جو انسانی نفسیات میں پائے جانے والے پیٹرنز سے مشابہ تھا۔
تحقیق کے مطابق یہ ماڈلز صرف حقائق نہیں سیکھتے بلکہ سماجی رویوں، نظریات اور ذہنی انداز کو بھی جذب کر لیتے ہیں۔ تاہم اسی مطالعے میں ایک اصلاحی طریقہ بھی پیش کیا گیا، جسے آئی او این کہا جاتا ہے، اور اس کے ذریعے تعصب سے متعلق منفی اثرات میں نمایاں کمی ممکن ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی نظام فیصلہ سازی میں زیادہ شامل ہوتے جا رہے ہیں، انسانی دماغ سے ان کی مماثلت کو سمجھنا نہایت ضروری ہو گیا ہے۔ یہ فہم نہ صرف ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں مدد دے گی بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ اے آئی انسانی کمزوریوں کو بغیر سوچے سمجھے آگے نہ بڑھائے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #AIResearch, #HumanBrain, #LLM, #AIBias, #FutureOfAI