بالی وُڈ کی چمکتی دنیا ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے جہاں روایتی کیمرہ، اداکاری اور ہدایتکاری کے ساتھ ساتھ اب مصنوعی ذہانت بھی مرکزی کردار ادا کرنے لگی ہے۔ فلم ساز اب کمپیوٹر کی مدد سے نہ صرف کہانیاں تخلیق کر رہے ہیں بلکہ مکمل مناظر، کردار اور آوازیں بھی اے آئی کے ذریعے تیار کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق Collective Artists Network جیسی کمپنیاں اب ڈیجیٹل اداکار بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ بنگلور میں قائم اسٹوڈیوز میں ہندو مذہبی کہانیوں جیسے رامائن اور مہابھارت کو جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے، جہاں کردار اور مناظر پہلے سے کہیں زیادہ شاندار انداز میں تخلیق کیے جا رہے ہیں۔
فلم انڈسٹری پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے، خاص طور پر اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے پھیلاؤ کے بعد سنیما گھروں میں جانے والے افراد کی تعداد کم ہوئی ہے۔ اس صورتحال میں فلم ساز اخراجات کم کرنے اور تیزی سے مواد بنانے کے لیے اے آئی کا سہارا لے رہے ہیں۔ اندازوں کے مطابق فلم بنانے کی لاگت پانچ گنا تک کم اور وقت بھی نمایاں حد تک کم ہو چکا ہے۔
ایک دلچسپ رجحان پرانی فلموں کو نئے انداز میں پیش کرنا بھی ہے۔ مثال کے طور پر Eros Media World نے ایک فلم کا اختتام اے آئی کے ذریعے تبدیل کر کے دوبارہ جاری کیا، جس پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ اسی طرح اے آئی ڈبنگ ٹیکنالوجی بھی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جہاں Neural Garage جیسی کمپنیاں مختلف زبانوں میں فلموں کو اس انداز میں ڈب کر رہی ہیں کہ ہونٹوں کی حرکت بھی قدرتی لگتی ہے۔
عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے Google، Microsoft اور NVIDIA بھی اس تبدیلی میں حصہ لے رہی ہیں اور فلم سازوں کے ساتھ مل کر اے آئی فلم سازی کو فروغ دے رہی ہیں۔
تاہم اس تیز رفتار تبدیلی پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ اے آئی اخراجات کم اور رفتار تیز کرتی ہے، مگر اس سے تخلیقی صلاحیت اور فلم کی اصل روح متاثر ہو سکتی ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ اے آئی فلم انڈسٹری کو بدلے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہ تبدیلی کتنی گہری ہوگی اور کیا انسانی تخلیقیت اس میں برقرار رہ سکے گی۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #Bollywood, #AIFilmmaking, #ArtificialIntelligence, #FilmIndustry, #FutureTech