جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

اے آئی سے چلنے والا یورپ کا نیا ڈیفینس ڈوم

30 نومبر 2025

اے آئی سے چلنے والا یورپ کا نیا ڈیفینس ڈوم

اطالوی کمپنی لیونارڈو نے Michelangelo Dome کے نام سے وہ نظام متعارف کرایا ہے جسے ماہرین یورپ کا پہلا مکمل AI سےچلنے والا دفاعی حصار قرار دے رہے ہیں۔ خطرہ نیا نہیں، لیکن رفتار اتنی بڑھ چکی ہے کہ انسانی ردعمل اب کافی نہیں رہا۔ ہائپرسانک میزائل چند منٹوں میں براعظم پار کر سکتے ہیں، ڈرون سوارمز ایک وقت میں درجنوں سمتوں سے حملہ کر سکتے ہیں، اور بحری راستوں پر ہائبرڈ حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں یورپ کو ایک ایسے دفاعی نظام کی ضرورت تھی جو انسان کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر مشین کی رفتار سے پورا منظرنامہ پڑھ سکے۔

اس نظام کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ زمینی، فضائی، سمندری، خلا اور سائبر — پانچوں محاذوں کے پلیٹ فارمز کو ایک ہی AI دماغ کے تحت ہم آہنگ کرتا ہے۔ یہ ہر لمحے سینسرز، ریڈارز اور انٹیلیجنس نیٹ ورکس سے آنے والے سگنلز کا تجزیہ کرتا ہے اور لمحوں میں فیصلہ کر لیتا ہے کہ خطرہ کہاں ہے، کس رفتار سے آ رہا ہے، اور اسے روکنے کے لئے کس ہتھیار کا استعمال کرنا ہے۔ لیونارڈو کے سی ای او روبرٹو چنگولانی نے کھل کر تسلیم کیا ہے کہ آج کے دور میں حملہ آمد کے کئی منٹ نہیں بلکہ صرف چند سیکنڈ چھوڑتا ہے، اس لئے “manual response” اب حقیقت پسندانہ آپشن نہیں رہا۔

یورپ میں 18 ہزار سے زیادہ سالانہ ہائبرڈ حملوں اور روسی ڈرونز کی سرحدی خلاف ورزیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ نظام ناکافی ہے۔ مگر Michelangelo Dome کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ NATO معیار پر بنایا گیا اوپن آرکیٹیکچر استعمال کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چھوٹے یورپی ممالک بغیر مہنگے نئے ہتھیار خریدے اپنے موجودہ جہاز، میزائل، ریڈار اور ڈرونز اس نیٹ ورک میں شامل کر سکتے ہیں۔ دفاعی ماہرین اسے یورپ کے لئے “equalizer” قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ مالی طور پر کمزور ممالک کو بھی وہی ٹیکنالوجی دیتا ہے جو بڑی طاقتوں کے پاس ہوتی ہے۔

اطالوی حکومت 2026 تک اس نظام کی پہلی حفاظتی تہہ نصب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ مکمل عملی صلاحیت 2028 تک متوقع ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ یورپی دفاع میں وہ تبدیلی ہو گی جو سرد جنگ کے بعد کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل کی جنگیں رفتار پر فیصلہ ہوں گی، اور جس ملک کا نظام تیز ہو گا وہی محفوظ ہو گا۔ یورپ پہلی بار اس دوڑ میں پیچھے نہیں بلکہ اگلی صف میں کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

“یہ تحریر اے آئی کی دنیا فیس بک پیج پر پوسٹ

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں