چین کی وزارتِ دفاع نے 11 مارچ کو خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی جنگ مستقبل میں “ٹیکنالوجیکل رن اوے” یعنی بے قابو ٹیکنالوجی کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ چینی حکام نے اس صورتحال کو مشہور سائنس فکشن فلم The Terminator کی دنیا سے تشبیہ دی، جہاں مشینیں انسانی کنٹرول سے باہر ہو جاتی ہیں اور خود فیصلے لینے لگتی ہیں۔
اسی دوران یہ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکہ کی فوجی کارروائیوں میں اے آئی کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق Anthropic کی Claude اے آئی کو Palantir کے Maven Smart System میں استعمال کیا گیا، جس نے ایران میں جنگ کے پہلے ہفتے کے دوران 3,000 سے زیادہ اہداف کی نشاندہی اور تجزیے میں مدد دی۔ یہ کارروائیاں اس وقت بھی جاری رہیں جب صدارتی سطح پر کچھ اے آئی ٹولز پر پابندی کی بحث جاری تھی۔
ماہرین کے مطابق ایسے اے آئی سسٹمز بظاہر صرف “فیصلہ سازی میں مدد” دیتے ہیں، مگر عملی طور پر یہ نشانہ منتخب کرنے اور حملوں کی منصوبہ بندی میں بہت بڑا کردار ادا کرنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ اگر یہ ٹیکنالوجی مزید خودمختار ہو گئی تو انسان اور مشین کے فیصلوں کے درمیان حد دھندلی ہو سکتی ہے۔
اسی تناظر میں پینٹاگون نے حال ہی میں xAI کے Grok اے آئی کو بھی خفیہ فوجی ماحول میں استعمال کے لیے کلیئر کر دیا ہے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں اے آئی کو مستقبل کی جنگی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنا رہی ہیں۔
یہ تمام واقعات ایک بڑی بحث کو جنم دے رہے ہیں کہ کیا اے آئی صرف جنگی فیصلوں میں معاون رہے گی یا مستقبل میں میدانِ جنگ میں خودمختار کردار بھی ادا کرے گی۔ اگر ایسا ہوا تو ٹیکنالوجی کی رفتار انسان کی اخلاقی اور قانونی تیاری سے کہیں آگے نکل سکتی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے