مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کا موضوع نہیں رہی بلکہ یہ براہِ راست ملازمتوں، تنخواہوں اور پیشہ ورانہ تحفظ کو ازسرِنو متعین کر رہی ہے۔ حالیہ عالمی اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اے آئی اسکلز رکھنے والے افراد نہ صرف غیر معمولی تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں بلکہ اسی وقت دنیا بھر کے کارکنوں کی اکثریت فوری آمدن کے بجائے طویل مدتی جاب سیکیورٹی کو ترجیح دینے لگی ہے۔ یہ تبدیلی محض معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی بھی ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق، ٹیک انڈسٹری میں اب ایک واضح تقسیم پیدا ہو چکی ہے۔ ایک طرف وہ پروفیشنلز ہیں جن کے پاس اے آئی، لینگویج ماڈلز اور جدید ڈیٹا اسکلز ہیں، اور دوسری طرف وہ روایتی ٹیک ورکرز جو اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکے۔ یہی خلیج آنے والے برسوں میں مزید گہری ہونے کے آثار رکھتی ہے۔
اسرائیل کی ہائی ٹیک انڈسٹری اس رجحان کی واضح مثال ہے۔ وہاں کی سب سے بڑی ٹیک ریکروٹمنٹ فرم GotFriends کے مطابق 2026 کے آغاز پر اے آئی اسپیشلسٹس دیگر ٹیک رولز کے مقابلے میں اوسطاً 9 فیصد زیادہ تنخواہ حاصل کر رہے ہیں۔ بڑی لینگویج ماڈلز، Retrieval-Augmented Generation اور نیچرل لینگویج پروسیسنگ میں مہارت رکھنے والے ماہرین کی اوسط ماہانہ آمدن ₪43,212 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ مجموعی ٹیک سیکٹر کی اوسط تنخواہ ₪39,810 رہی۔ یہ فرق محض اعداد نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مخصوص اے آئی اسکلز اب براہِ راست مالی قدر میں تبدیل ہو رہی ہیں۔
امریکہ میں صورتحال اس سے بھی زیادہ شدت اختیار کر چکی ہے۔ سینئر اے آئی سائنسدانوں کے لیے مجموعی کمپنسیشن 300 ہزار سے 600 ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بڑی ٹیک کمپنیوں میں ممتاز ریسرچرز کی آمدن ایک ملین ڈالر سے بھی تجاوز کر رہی ہے۔ دسمبر 2025 کی ایک ایگزیکٹو کمپنسیشن اسٹڈی کے مطابق، بعض کمپنیوں میں سائن آن بونس ہی 20 ملین ڈالر تک دیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اے آئی لیڈرشپ اب کسی بھی تنظیم کے لیے اسٹریٹیجک اثاثہ بن چکی ہے۔
تاہم اس تنخواہی عروج کے برعکس، مشرقِ وسطیٰ میں کارکنوں کی ترجیحات ایک مختلف سمت میں جا رہی ہیں۔ PwC کی Middle East Workforce Hopes and Fears Survey 2025 کے مطابق، خطے کے 85 فیصد کارکن نئی نوکری کا انتخاب کرتے وقت تنخواہ کے بجائے جاب سیکیورٹی کو اولین ترجیح دیتے ہیں، جو کہ عالمی اوسط 79 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ خطے کے 75 فیصد ملازمین نے گزشتہ سال اپنے کام میں اے آئی ٹولز استعمال کیے، جو عالمی شرح سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
یہی رجحان متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں مزید واضح نظر آتا ہے۔ Oliver Wyman کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے 67 فیصد اور سعودی عرب کے 70 فیصد پروفیشنلز کم تنخواہ قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ انہیں اے آئی اپ اسکلنگ کے مواقع ملیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رویہ دراصل ملازمین کی طرف سے اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، جہاں فوری فائدے کے بجائے طویل مدتی بقا کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
آسٹریلیا میں بھی یہی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ LinkedIn کی 2026 کی “Jobs on the Rise” فہرست میں اے آئی انجینئر سب سے تیزی سے بڑھنے والا کردار قرار پایا۔ اگرچہ کئی اداروں میں انٹری لیول رولز بڑھے ہیں، مگر بعض شعبوں میں جاب ڈسپلیسمنٹ کے خدشات بھی واضح ہیں۔ یعنی مواقع اور خطرات ساتھ ساتھ بڑھ رہے ہیں۔
یہ خدشات بے بنیاد نہیں۔ Goldman Sachs کے تجزیہ کاروں کے مطابق 2026 میں اے آئی آٹومیشن نئی لی آفز کا باعث بن سکتی ہے۔ MIT کے Project Iceberg مطالعے کے مطابق موجودہ اے آئی سسٹمز تکنیکی طور پر تقریباً 16 فیصد لیبر ٹاسکس انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ صرف نومبر 2025 میں اے آئی کی وجہ سے 6,280 نوکریاں ختم ہوئیں، جبکہ پورے سال میں یہ تعداد 54,694 تک پہنچ گئی۔
اس کے باوجود ریاستی اور ادارہ جاتی سطح پر ایک اور تصویر بھی سامنے آ رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ انسانی وسائل نے اعلان کیا ہے کہ 2026 میں وزارت کے تمام سسٹمز میں مکمل اے آئی انٹیگریشن نافذ کی جائے گی، اور اب تک 13 ملین سے زائد ٹرانزیکشنز بغیر انسانی مداخلت کے مکمل کی جا چکی ہیں۔ اندازوں کے مطابق 2030 تک متحدہ عرب امارات میں 10 لاکھ سے زائد نئی اے آئی سے وابستہ نوکریاں پیدا ہوں گی۔
ان تمام اعداد و شمار کا خلاصہ ایک ہی نکتے پر آ کر ٹھہرتا ہے۔ آج کے دور میں ملازمت کی اصل ضمانت تنخواہ نہیں بلکہ سیکھنے کی رفتار ہے۔ جہاں ملازمین نئی اسکلز سیکھ رہے ہیں، وہ خود کو محفوظ بنا رہے ہیں، اور جہاں سیکھنا رک جاتا ہے، وہاں خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ مستقبل میں کیریئر کی بنیاد اب تجربے یا مدتِ ملازمت پر نہیں بلکہ مطابقت اور اپ اسکلنگ پر رکھی جائے گی۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #AISkills, #FutureOfWork, #JobSecurity, #AIEconomy, #Upskilling, #Careers