جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

اے آئی اب کاروبار کے لیے دوسرا بڑا عالمی خطرہ

15 جنوری 2026

اے آئی اب کاروبار کے لیے دوسرا بڑا عالمی خطرہ

مصنوعی ذہانت اب محض ترقی اور جدت کی علامت نہیں رہی، بلکہ یہ دنیا بھر کے کاروباری اداروں کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی بن چکی ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی Allianz کی Allianz Risk Barometer 2026 رپورٹ کے مطابق، اے آئی نے ایک ہی سال میں دسویں نمبر سے چھلانگ لگا کر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بزنس رسک بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ یہ سروے 97 ممالک میں 3,300 سے زائد رسک مینجمنٹ ماہرین کی آراء پر مبنی ہے، اور یہ اس رپورٹ کی تاریخ میں سب سے بڑی سالانہ تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلسل پانچویں سال بھی سائبر سیکیورٹی واقعات بدستور پہلے نمبر پر موجود ہیں، جنہیں 42 فیصد شرکاء نے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ تاہم اے آئی کا 32 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر پہنچ جانا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کارپوریٹ دنیا میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بے چینی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ خدشات صرف تکنیکی نوعیت کے نہیں بلکہ آپریشنل، قانونی اور ساکھ سے جڑے خطرات تک پھیلے ہوئے ہیں۔

اسی تناظر میں World Economic Forum کی Global Cybersecurity Outlook 2026 رپورٹ ایک اہم زاویہ سامنے لاتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، اے آئی سے جڑے سائبر خطرات میں اب سب سے بڑا مسئلہ ڈیٹا لیکس بن چکا ہے۔ 800 سے زائد سائبر سیکیورٹی لیڈرز میں سے 34 فیصد نے جنریٹو اے آئی کے ذریعے ڈیٹا کے غیر ارادی افشا کو سب سے بڑا خدشہ قرار دیا، جبکہ اے آئی کے ذریعے حملہ آور صلاحیتوں میں اضافے کا خوف 29 فیصد تک محدود ہو گیا ہے۔

یہ تبدیلی اس لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کہ صرف ایک سال پہلے منظرنامہ بالکل مختلف تھا۔ 2025 میں حملہ آوروں کی اے آئی صلاحیتیں 47 فیصد کے ساتھ سرفہرست تھیں، جبکہ ڈیٹا لیکس کا خدشہ محض 22 فیصد پر تھا۔ یعنی کاروباری اداروں کی نظر اب بیرونی حملوں سے زیادہ اندرونی استعمال اور کنٹرول کے مسائل پر مرکوز ہو رہی ہے۔

اLudovic Subran کے مطابق، کمپنیاں اب اے آئی کو صرف ایک اسٹریٹجک موقع نہیں بلکہ ایک پیچیدہ خطرے کے طور پر دیکھ رہی ہیں، کیونکہ ٹیکنالوجی کی رفتار گورننس، ریگولیشن اور ورک فورس کی تیاری سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادارے تیزی سے اپنی سیکیورٹی حکمتِ عملیوں پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2026 میں 94 فیصد اداروں نے اے آئی کو سائبر سیکیورٹی میں سب سے بڑی تبدیلی لانے والا عنصر قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں اے آئی ٹولز کی سیکیورٹی جانچنے کے باقاعدہ عمل رکھنے والی تنظیموں کی شرح 2025 کے 37 فیصد سے بڑھ کر 64 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے باوجود ایک تہائی کے قریب ادارے اب بھی ایسے ہیں جہاں اے آئی سسٹمز کو نافذ کرنے سے پہلے کسی قسم کی رسمی سیکیورٹی جانچ موجود نہیں۔

رپورٹس یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ایگزیکٹو سطح پر ترجیحات میں واضح فرق پیدا ہو چکا ہے۔ سی ای اوز کے لیے سائبر کے ذریعے ہونے والا فراڈ سب سے بڑا خدشہ بن چکا ہے، جہاں 73 فیصد نے اعتراف کیا کہ 2025 میں وہ خود یا ان کے قریبی نیٹ ورک کا کوئی فرد ایسے فراڈ سے متاثر ہوا۔ دوسری جانب چیف انفارمیشن سیکیورٹی آفیسرز اب بھی رینسم ویئر اور سپلائی چین کی مضبوطی کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔

اThomas Lillelund کے مطابق، اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے رسک لینڈ اسکیپ کو یکسر بدل دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جتنے بڑے مواقع فراہم کر رہی ہے، اتنے ہی بڑے خطرات بھی جنم دے رہی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ چھوٹے اداروں سے لے کر عالمی کارپوریشنز تک سب اس پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ رپورٹس ایک واضح پیغام دیتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت اب صرف مستقبل کی بات نہیں رہی، بلکہ یہ آج کے کاروباری فیصلوں کے مرکز میں کھڑی ہے۔ جو ادارے اے آئی کو بغیر مناسب گورننس، سیکیورٹی اور ذمہ داری کے اپنائیں گے، وہ نہ صرف تکنیکی بلکہ قانونی اور اخلاقی مسائل کا بھی سامنا کریں گے۔ سوال اب یہ نہیں کہ اے آئی استعمال کرنی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے کتنی ذمہ داری کے ساتھ اپنایا جاتا ہے۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #CyberSecurity, #BusinessRisk, #AIandSecurity, #FutureOfWork

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں