دنیا بھر میں اے آئی اب کسی نئی یا حیران کن چیز کے طور پر نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اب یہ صرف ٹیکنالوجی کے شوقین افراد تک محدود نہیں بلکہ عام لوگ بھی اسے روزانہ کے کاموں میں استعمال کر رہے ہیں، جیسے سوال پوچھنا، سفر کی منصوبہ بندی کرنا یا فوری معلومات حاصل کرنا۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تقریباً ہر تین میں سے ایک شخص روزانہ اے آئی استعمال کرتا ہے، جبکہ آدھے سے زیادہ افراد کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی آن لائن زندگی بہتر ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر ایک سادہ شاپنگ لسٹ کو کھانے کے آئیڈیاز میں بدل دینا، پیغامات لکھنے میں مدد دینا یا بجٹ پلان کرنا اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ یہ تبدیلی بالکل ویسی ہے جیسے کبھی لوگ کاغذی نقشوں سے ہٹ کر Google Maps استعمال کرنے لگے تھے۔
آن لائن خریداری کا انداز بھی تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب ایسے اے آئی سسٹمز سامنے آ رہے ہیں جو صارف کی جگہ خود براؤز کرتے ہیں، قیمتوں کا موازنہ کرتے ہیں، بہترین پروڈکٹس تجویز کرتے ہیں اور بعض صورتوں میں خریداری بھی مکمل کر دیتے ہیں۔ تقریباً 64 فیصد لوگ اب خریداری سے پہلے اے آئی سے تحقیق کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اشتہارات اور تجاویز زیادہ ذاتی نوعیت کی ہو گئی ہیں۔
آواز کے ذریعے بات چیت بھی ایک نئی سطح پر پہنچ رہی ہے۔ جدید اے آئی سسٹمز اب انسانوں جیسی آواز میں بات کرتے ہیں، جس سے لوگ ٹائپ کرنے کے بجائے براہِ راست بات کرنا پسند کر رہے ہیں۔ گوگل اور دیگر کمپنیاں اے آئی کو سرچ، ای میل اور تصاویر میں گہرائی سے شامل کر رہی ہیں، جس سے آپ کا ڈیجیٹل اسسٹنٹ آپ کی زندگی کو بہتر طریقے سے سمجھنے لگا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں خدشات بھی بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر پرائیویسی اور ڈیٹا کے حوالے سے۔
تعلیم کے میدان میں بھی بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ نوجوان طلبہ اب اے آئی کو ہوم ورک، خلاصہ بنانے اور ویڈیوز ایڈٹ کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ایک عام چیز بنتی جا رہی ہے، جبکہ اساتذہ ابھی اس کے قواعد و ضوابط طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر صورتحال یہ ہے کہ اے آئی اب مستقبل کی چیز نہیں رہا بلکہ موجودہ حقیقت بن چکا ہے۔ یہ روزمرہ کے کاموں کو آسان بنا رہا ہے، وقت بچا رہا ہے اور فیصلے بہتر کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی لوگ چاہتے ہیں کہ اس پر کچھ حدود اور کنٹرول بھی ہوں تاکہ یہ ٹیکنالوجی حد سے آگے نہ بڑھ جائے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے