ایپل اس وقت اسمارٹ گلاسز، ایک پہننے والے پینڈنٹ اور کیمرہ سے لیس ایئرپوڈز پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ ان سب کا مرکزی نقطہ ایک اپ گریڈڈ “Siri” ہو گی، جسے ممکنہ طور پر گوگل کے “Gemini” ماڈل کی طاقت حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر یہ شراکت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو یہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک غیر معمولی موڑ ثابت ہو گا، کیونکہ روایتی حریف ایک نئے اے آئی اتحاد کی صورت میں سامنے آئیں گے۔
ویژول انٹیلیجنس کا تصور دراصل ایسے سسٹمز کی طرف اشارہ کرتا ہے جو صرف آواز سننے یا متن پڑھنے تک محدود نہیں بلکہ اردگرد کی دنیا کو دیکھ کر سمجھ بھی سکتے ہیں۔ تصور کیجیے کہ آپ کے چشمے سامنے موجود عمارت، شخص یا پروڈکٹ کو پہچان کر فوری معلومات فراہم کریں، راستہ دکھائیں یا حقیقی وقت میں ترجمہ کر دیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ڈیجیٹل اور فزیکل دنیا کی سرحدیں مزید دھندلی ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات یہ بھی بتاتی ہیں کہ اسمارٹ گلاسز کے ابتدائی نمونے انجینئرز کے پاس پہنچ چکے ہیں اور ہدف یہ ہے کہ 2026 کے آخر تک پیداوار شروع ہو اور 2027 میں باضابطہ لانچ کیا جائے۔ اس کا براہ راست مقابلہ میٹا کے اسمارٹ گلاسز سے ہو گا، جو پہلے ہی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایپل ایک بار پھر کسی موجودہ تصور کو لے کر اسے مین اسٹریم بنا دے گا، جیسا کہ اس نے ماضی میں کئی مصنوعات کے ساتھ کیا۔
اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں اسکرین آپ کی جیب میں نہیں بلکہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو۔ یہی وہ لمحہ ہو سکتا ہے جہاں موبائل فون کے بعد اگلا بڑا پلیٹ فارم جنم لے اور ہماری روزمرہ زندگی، کام، خریداری اور سماجی روابط کا انداز بدل جائے۔
#Apple, #AAPL, #AI, #Wearables, #VisualIntelligence, #Siri, #Gemini, #Meta, #TechNews