ایپل ایک بار پھر مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں سنجیدگی سے واپس آتا دکھائی دے رہا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق Apple ایک AI سے چلنے والا wearable pin اور ایک مکمل چیٹ بوٹ پر مبنی نیا Siri سسٹم تیار کر رہا ہے، جس کا مقصد براہِ راست OpenAI اور Google جیسے حریفوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ دونوں منصوبے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب Apple پر یہ تنقید مسلسل بڑھ رہی تھی کہ وہ جنریٹو AI کے میدان میں دیگر ٹیک کمپنیوں سے پیچھے رہ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق Apple کا AI pin ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کی ممکنہ لانچ 2027 کے آس پاس بتائی جا رہی ہے۔ یہ pin ایک پتلی، گول، ایلومینیم اور شیشے سے بنی ڈیوائس ہوگی جو سائز میں AirTag جیسی مگر قدرے موٹی ہو گی۔ اس میں دو فرنٹ فیسنگ کیمرے ہوں گے، ایک عام لینس اور ایک وائیڈ اینگل لینس، جو صارف کے اردگرد کے ماحول کو دیکھ اور ریکارڈ کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ تین مائیکروفون، ایک اسپیکر اور وائرلیس چارجنگ بھی شامل ہو گی، جس سے یہ ایک مکمل on-device AI companion بن سکتا ہے۔ Apple مبینہ طور پر لانچ کے وقت تقریباً دو کروڑ یونٹس تیار کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جو AI wearables کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے ایک خاصا جرات مندانہ فیصلہ ہے۔
ماضی میں AI wearables کو زیادہ کامیابی نہیں ملی، جس کی ایک مثال Humane کا AI Pin ہے جو بڑے سرمایہ اور توجہ کے باوجود مارکیٹ میں خاطر خواہ پذیرائی حاصل نہ کر سکا۔ اسی لیے Apple کے اندر بھی یہ منصوبہ سخت جانچ سے گزر رہا ہے اور اگر یہ کمپنی کے معیار پر پورا نہ اترا تو اسے منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ pin ممکنہ طور پر OpenAI کے آنے والے AI wearable کا مقابلہ کرے گا، جسے سابق Apple ڈیزائنر Jony Ive کے ساتھ تیار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب Apple کا زیادہ فوری اور عملی قدم Siri کو مکمل چیٹ بوٹ میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ نیا Siri، جس کا اندرونی کوڈ نیم Campos بتایا جا رہا ہے، iOS 27، iPadOS 27 اور macOS 27 کے ساتھ متعارف کرایا جائے گا۔ اس اپڈیٹ کے بعد Siri محض ایک وائس اسسٹنٹ نہیں رہے گا بلکہ ایک مکمل conversational AI بن جائے گا جو ChatGPT اور Gemini جیسی سروسز کا براہ راست متبادل ہو گا۔ صارف اسی Siri activation طریقے سے بات چیت شروع کر سکیں گے، مگر اندرونی طور پر تجربہ مکمل طور پر بدل چکا ہو گا۔
کیمپس (Campos) ویب سرچ، مواد کی تخلیق، تصاویر بنانا، خلاصہ تیار کرنا اور فائلز کا تجزیہ جیسے کام انجام دے سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ Apple کی بنیادی ایپس جیسے Photos، Mail اور Music کے ساتھ گہرے انداز میں انٹیگریٹ ہو گا اور صارف کے ذاتی ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ سیاق و سباق پر مبنی مدد فراہم کرے گا۔ یہ چیٹ بوٹ Apple Foundation Models ورژن 11 پر چلنے کی توقع ہے، جو کارکردگی کے لحاظ سے Gemini 3 کے برابر سمجھا جا رہا ہے، اور یہ سب Apple اور Google کے درمیان حالیہ طویل المدتی AI تعاون کا نتیجہ ہے۔
یہ تمام پیش رفت Apple کے لیے ایک طرح سے catch-up موڈ کی نشاندہی کرتی ہے۔ 2024 میں Apple Intelligence کا نسبتاً ہلکا پھلکا آغاز، AI سربراہ John Giannandrea کی رخصتی، اور اب Craig Federighi کا AI کی نگرانی سنبھالنا، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ کمپنی اپنی حکمت عملی پر ازسرِنو کام کر رہی ہے۔ Campos کے مکمل اجرا سے پہلے Apple موسم بہار میں iOS 26.4 کے ذریعے Siri کی محدود اپڈیٹ بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں بہتر contextual awareness اور ویب سرچ شامل ہو گی۔
مجموعی طور پر Apple کے یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ کمپنی اب صرف AI فیچرز شامل کرنے پر اکتفا نہیں کر رہی بلکہ ایک مکمل AI-first تجربہ بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ چاہے وہ wearable pin ہو یا نیا Siri چیٹ بوٹ، آنے والے برسوں میں Apple کی یہ حکمت عملی طے کرے گی کہ آیا وہ واقعی OpenAI اور Google کے برابر کھڑا ہو سکتا ہے یا نہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے