جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

تجزیے

ایم آئی ٹی کا اعلان : مستقبل وائب کوڈنگ کا ہے؟

13 جنوری 2026

ایم آئی ٹی کا اعلان : مستقبل وائب کوڈنگ کا ہے؟

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اور اہم سنگِ میل اس وقت سامنے آیا جب MIT Technology Review نے سال 2026 کے لیے اپنی سالانہ 10 Breakthrough Technologies فہرست جاری کی، جس میں جنریٹو اے آئی کوڈنگ ٹولز کو مستقبل بدل دینے والی ٹیکنالوجی قرار دیا گیا۔ یہ وہ اعتراف ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اے آئی اب محض ایک تجربہ نہیں بلکہ عالمی سافٹ ویئر انڈسٹری کی بنیاد بنتا جا رہا ہے۔ 2025 میں اے آئی پاورڈ کوڈ جنریٹر مارکیٹ کی مالیت 5.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اندازہ ہے کہ 2035 تک یہ صنعت 52 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔

اس فہرست میں جنریٹو کوڈنگ کی شمولیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے روایتی طریقے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ تجربہ کار پروگرامرز ہوں یا نئے سیکھنے والے، دونوں اب اے آئی اسسٹنٹس کے ذریعے کوڈ لکھنے، جانچنے، بہتر بنانے اور بگز ختم کرنے جیسے کام انجام دے رہے ہیں۔ بڑی ٹیک کمپنیوں کے مطابق Microsoft کے کوڈ کا 20 سے 30 فیصد اور Google کے کوڈ کا 25 فیصد سے زائد حصہ کسی نہ کسی شکل میں اے آئی کے تعاون سے تیار ہو رہا ہے۔ Meta کے سربراہ Mark Zuckerberg اس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ مستقبل میں ان کی کمپنی کا زیادہ تر کوڈ اے آئی خود لکھے۔

اسی تناظر میں ایک نیا رجحان ابھر کر سامنے آیا ہے جسے “وائب کوڈنگ” کہا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل میں ڈویلپر صرف قدرتی زبان میں ہدایات دیتا ہے اور اے آئی خود حل تجویز کرتا ہے۔ یہ اصطلاح 2025 میں Collins Dictionary کی Word of the Year بھی قرار پائی۔ Microsoft Copilot، Replit، Lovable اور خاص طور پر Cursor جیسے ٹولز نے ایسے افراد کے لیے بھی ایپلیکیشنز، گیمز اور ویب سائٹس بنانا ممکن بنا دیا ہے جن کے پاس روایتی کوڈنگ مہارت محدود ہے۔

اس تیز رفتار ترقی کی ایک نمایاں مثال Anysphere ہے، جو Cursor اے آئی کوڈ ایڈیٹر بنانے والی کمپنی ہے۔ 2025 میں اس اسٹارٹ اپ نے 900 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی اور اس کی ویلیوایشن 9.9 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی کی سالانہ ریونیو شرح 500 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جسے سرمایہ کار سافٹ ویئر کی تاریخ کی تیز ترین ترقی قرار دے رہے ہیں۔ انڈسٹری ڈیٹا کے مطابق اب 82 فیصد ڈویلپر روزانہ یا ہفتہ وار اے آئی کوڈنگ ٹولز استعمال کر رہے ہیں، جس سے وقت کی بچت 30 سے 75 فیصد تک رپورٹ کی جا رہی ہے۔

تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ تحقیقی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پیداواری صلاحیت میں اضافے کے باوجود کوڈ کے معیار اور سیکیورٹی پر سوالات برقرار ہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق تجربہ کار ڈویلپرز بعض اوقات اے آئی کے ساتھ کام کرتے ہوئے 19 فیصد زیادہ سست ثابت ہوئے، حالانکہ انہیں محسوس ہوا کہ وہ تیز ہو گئے ہیں۔ ڈیٹا سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ 48 فیصد اے آئی جنریٹڈ کوڈ میں ممکنہ سیکیورٹی خامیاں پائی جاتی ہیں، جبکہ صرف 3 فیصد ڈویلپرز اے آئی آؤٹ پٹ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔

اس تبدیلی کے ابتدائی اثرات نوکریوں کی منڈی میں بھی نظر آ رہے ہیں، خاص طور پر جونیئر ڈویلپرز کے لیے مواقع میں کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ Anthropic میں Claude Code کے سربراہ Boris Cherny کے مطابق نئی نسل کے اے آئی کوڈنگ ایجنٹس اب صرف کوڈ پر بات نہیں کرتے بلکہ حقیقتاً کوڈ لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مجموعی طور پر یہ صورتحال اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ اے آئی کوڈنگ ٹولز سافٹ ویئر انڈسٹری کو زیادہ تیز، زیادہ قابلِ رسائی اور زیادہ پیچیدہ بنانے کی سمت لے جا رہے ہیں۔ سوال اب یہ نہیں رہا کہ اے آئی کوڈ لکھے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انسان اور مصنوعی ذہانت کے درمیان یہ شراکت کس حد تک متوازن اور محفوظ ہو گی۔

یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #AICoding, #FutureOfTech, #SoftwareDevelopment, #VibeCoding, #TechTrends, #MITTechnologyReview

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں