ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ Macrohard نامی ایک نیا اے آئی سسٹم، جسے Digital Optimus بھی کہا جا رہا ہے، دراصل Tesla اور xAI کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس سسٹم کو Tesla کی جانب سے xAI میں کی گئی تقریباً 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کے حصے کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
مسک کے مطابق اس نظام میں Grok مرکزی کنٹرولر یا “ماسٹر کنڈکٹر” کا کردار ادا کرے گا، جبکہ Digital Optimus کمپیوٹر اسکرین کے ریئل ٹائم ویڈیو، کی بورڈ اور ماؤس کے ان پٹس کو پروسیس کرے گا۔ یہ سسٹم گزشتہ چند سیکنڈ کے اسکرین ڈیٹا کو مسلسل تجزیہ کر کے فوری فیصلے اور ایکشن لے سکتا ہے۔
مسک نے اس نظام کی وضاحت انسانی ذہن کے دو حصوں سے کی ہے۔ ان کے مطابق Digital Optimus دماغ کے “System 1” کی طرح کام کرے گا جو فوری اور فطری ردعمل دیتا ہے، جبکہ Grok “System 2” کی طرح گہرائی سے سوچ کر رہنمائی فراہم کرے گا۔ اس طرح دونوں مل کر ایک مکمل اے آئی فیصلہ سازی کا نظام بنائیں گے۔
یہ سسٹم Tesla کے نسبتاً کم قیمت AI4 ہارڈویئر پر چل سکے گا جس کی قیمت تقریباً 650 ڈالر بتائی جا رہی ہے، جبکہ زیادہ طاقتور Nvidia ہارڈویئر کو xAI کے ڈیٹا سینٹرز میں استعمال کیا جائے گا۔ مسک کے مطابق یہ امتزاج اسے ایک انتہائی مؤثر اور کم لاگت والا ریئل ٹائم اے آئی نظام بنا سکتا ہے۔
ایلون مسک کا دعویٰ ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی اتنی طاقتور ہو سکتی ہے کہ نظریاتی طور پر پورے کاروباری اداروں کے کام کو خودکار طور پر انجام دے سکے۔ اسی وجہ سے اس منصوبے کا نام “Macrohard” رکھا گیا ہے، جو ایک طنزیہ انداز میں Microsoft کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب رپورٹوں کے مطابق xAI کے اندر اس منصوبے میں تاخیر ہوئی تھی، جس کی وجہ قیادت میں تبدیلیاں، بھرتیوں کا رک جانا اور کئی انجینئرز کے استعفے بتائے گئے تھے۔ اس کے باوجود Tesla کی سرمایہ کاری جاری رہی، حالانکہ گزشتہ سال حصص یافتگان نے ایک غیر پابند ووٹنگ میں اس منصوبے کی مخالفت کی تھی۔
اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ مستقبل میں ریئل ٹائم خودکار ڈیجیٹل ورک فورس کی بنیاد رکھ سکتا ہے، جہاں اے آئی سسٹمز انسانی طرز کے کمپیوٹر استعمال کو مکمل طور پر خودکار بنا سکیں گے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے