ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اے آئی اور ہیومنائیڈ روبوٹس ایسی دنیا بنا سکتے ہیں جہاں انسانوں کو روایتی ملازمتوں کی ضرورت نہیں رہے گی اور معاشی فراوانی ہر کسی کے لیے ممکن ہو جائے گی۔
مسک کے مطابق ٹیسلا کا Optimus ہیومنائیڈ روبوٹ اور جدید مصنوعی ذہانت مل کر ایسی پیداواری صلاحیت پیدا کریں گے جس سے اشیاء اور خدمات کی لاگت بہت کم ہو جائے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس صورت حال میں پیسے اور روزگار کی روایتی اہمیت بھی کم ہو سکتی ہے۔
ٹیسلا منصوبہ بنا رہی ہے کہ Optimus روبوٹ کی تیسری نسل کو 2026 کی پہلی سہ ماہی میں متعارف کرایا جائے۔ اس ماڈل کو خاص طور پر بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی نے اپنی فیکٹریوں میں جگہ خالی کرنے کے لیے Model S اور Model X کی پیداوار ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
تاہم معاشی ماہرین اس وژن کے بارے میں محتاط ہیں۔ ان کے مطابق روبوٹکس ابھی بھی مہنگی اور پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے جسے بڑے پیمانے پر استعمال میں لانا آسان نہیں۔
اسی طرح Yale Budget Lab کی ایک رپورٹ کے مطابق اب تک اے آئی نے مجموعی طور پر لیبر مارکیٹ میں کوئی بڑی تبدیلی یا بے روزگاری کی لہر پیدا نہیں کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مستقبل میں اے آئی اور روبوٹس معیشت کو بدل سکتے ہیں، لیکن اس تبدیلی کی رفتار اور اس سے پیدا ہونے والی دولت کی تقسیم اب بھی بڑے سوالات ہیں۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے