اوپن اے آئی مبینہ طور پر اے آئی سے چلنے والی ڈیوائسز کی ایک مکمل فیملی پر کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے پر 200 سے زائد افراد کام کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پہلا پروڈکٹ ایک اسمارٹ اسپیکر ہوگا جس کی قیمت تقریباً 200 سے 300 ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد اسمارٹ گلاسز اور دیگر اسمارٹ ڈیوائسز بھی متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔
اسمارٹ اسپیکر میں کیمرہ شامل ہونے کی بات کی جا رہی ہے جو اردگرد کے ماحول، اشیاء اور گفتگو کو سمجھ سکے گا۔ چہرہ شناخت کے ذریعے خریداری جیسے فیچرز بھی ممکن ہیں۔ اگر یہ سب حقیقت بنتا ہے تو یہ عام وائس اسسٹنٹ نہیں بلکہ ایک مکمل کانٹیکسٹ اویئر اے آئی سسٹم ہوگا۔
اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اعتماد ہے۔
اس وقت اے آئی کے حوالے سے صارفین دو حصوں میں تقسیم ہیں۔ ایک طبقہ ہر نئی اے آئی سروس کو اپناتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ نگرانی اور پرائیویسی کے خدشات رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں گھر کے اندر مسلسل آن رہنے والی کیمرہ سے لیس ڈیوائس فروخت کرنا آسان نہیں ہوگا۔
پرائیویسی سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ صارفین پہلے ہی بڑی ٹیک کمپنیوں پر مکمل اعتماد نہیں کرتے۔ اگر ایک ڈیوائس روزانہ سینکڑوں اے آئی کالز کرے اور گھر کے ماحول کا تجزیہ کرے تو اس کی مارکیٹنگ انتہائی احتیاط سے کرنی ہوگی۔
ایک اور بڑا مسئلہ کمپیوٹ لاگت ہے۔ عام چیٹ جی پی ٹی استعمال میں ایک سوال اور ایک جواب ہوتا ہے۔ لیکن اسمارٹ اسپیکر مسلسل کانٹیکسٹ پراسیسنگ کرے گا۔ اس کا مطلب زیادہ سرور لاگت اور زیادہ انفراسٹرکچر خرچ ہے۔
اوپن اے آئی کے پاس ایمیزون جیسا ای کامرس ماڈل نہیں جس سے وہ ہارڈویئر سبسڈی دے سکے۔ یا تو قیمت زیادہ ہوگی، یا سبسکرپشن لازم ہوگی، یا فیچرز محدود ہوں گے۔
اگر ڈیوائس ہالوسینیشن کرے یا سادہ کام میں تاخیر کرے تو صارفین شدید مایوس ہوں گے۔ اے آئی ہارڈویئر کی ناکامی فوری طور پر وائرل منفی پی آر میں بدل سکتی ہے۔
اسمارٹ گلاسز کی متوقع لانچ 2028 کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ مگر اس وقت تک مارکیٹ میں میٹا، ایپل، گوگل اور دیگر کمپنیاں مضبوط پوزیشن میں ہوں گی۔ اصل فرق صرف ہارڈویئر سے نہیں بلکہ اے آئی کی ذہانت سے آئے گا۔ اگر چیٹ جی پی ٹی واقعی زیادہ بہتر اور زیادہ قابل اعتماد ہوا تو یہی سب سے بڑا فرق ہوگا۔
ریونیو کے اعتبار سے بھی یہ ایک اہم قدم ہے۔ کمپنی اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ اگر فروخت مضبوط نہ رہی تو یہ صرف مالی نہیں بلکہ برانڈ کا مسئلہ بھی بن سکتا ہے۔ ایک ناکام پروڈکٹ مستقبل کے تمام ہارڈویئر منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
نتیجہ سادہ ہے۔ یہ قدم اوپن اے آئی کے لیے سب سے بڑا موقع بھی ہو سکتا ہے اور سب سے بڑا خطرہ بھی۔
کیا یہ اے آئی ہارڈویئر انقلاب کی شروعات ہے یا ایک مہنگی غلطی؟ وقت ہی فیصلہ کرے گا۔