جمعہ، 17 جولائی 2026
اے آئی کی دنیا

مصنوعی ذہانت کی خبریں، ٹولز اور معلومات

خبریں

اوپن اے آئی کا : GPT Image 1.5

17 دسمبر 2025

اوپن اے آئی کا : GPT Image 1.5

مصنوعی ذہانت کی دنیا اس وقت ایک واضح مسابقتی دور سے گزر رہی ہے، جہاں ایک بڑی پیش رفت کے بعد دوسرا بڑا اعلان زیادہ دیر نہیں لیتا۔ حالیہ ہفتوں میں گوگل کی جانب سے Gemini 3 اور Nano Banana Pro جیسے ماڈلز نے خاصی توجہ حاصل کی، اور اسی دباؤ میں OpenAI نے صرف دو ہفتوں کے اندر اندر ایک کے بعد ایک نئے ماڈلز متعارف کروائے۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی GPT Image 1.5 ہے، جو OpenAI کے امیج جنریشن ماڈلز میں ایک نمایاں اپگریڈ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یہ GPT Image 1.5 باضابطہ طور پر OpenAI کے پچھلے امیج ماڈل کی جگہ لے رہا ہے۔ اگرچہ پرانا ماڈل مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا، مگر اب اسے استعمال کرنے کا طریقہ نسبتاً پیچیدہ بنا دیا گیا ہے اور وہ ایک کسٹم GPT کی صورت میں محدود ہو چکا ہے۔ عملی طور پر اب ChatGPT میں تصویر بنانے کے لیے یہی نیا ماڈل ڈیفالٹ کے طور پر استعمال ہوگا، جو اس بات کی علامت ہے کہ OpenAI امیج جنریشن کو ایک ضمنی فیچر کے بجائے اپنی بنیادی صلاحیتوں میں شامل کر رہا ہے۔

کارکردگی کے لحاظ سے OpenAI کا دعویٰ ہے کہ GPT Image 1.5 پچھلے ماڈل کے مقابلے میں چار گنا زیادہ تیزی سے تصاویر بنا سکتا ہے۔ یہ فرق محض رفتار کا نہیں بلکہ استعمال کے رویے کو بدلنے والا ہے، کیونکہ جتنا تیز نتیجہ ملے گا اتنا ہی لوگ ان ٹولز کو بار بار استعمال کریں گے۔ ڈیولپرز کے لیے ایک اور اہم خبر یہ ہے کہ امیج ان پٹ اور آؤٹ پٹ کی API لاگت تقریباً 20 فیصد کم کر دی گئی ہے، جو بڑے پیمانے پر ایپلیکیشنز بنانے والوں کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہے۔

دستیابی کے اعتبار سے GPT Image 1.5 کو 16 دسمبر سے تمام ChatGPT صارفین کے لیے رول آؤٹ کر دیا گیا ہے، چاہے وہ فری ہوں یا پیڈ۔ اس کے ساتھ ہی OpenAI نے ChatGPT کے اندر ایک بالکل نیا Images ٹیب بھی متعارف کروایا ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ تصویر سازی اب AI گفتگو کا سائیڈ فیچر نہیں رہی بلکہ ایک مکمل تخلیقی اسپیس بن چکی ہے۔ اس ٹیب میں صارفین کو پہلے سے تیار کردہ بصری اسٹائلز ملتے ہیں، جیسے pop art، sketch، plushy، doodle اور دیگر، تاکہ عام صارفین کو پیچیدہ پرومپٹس لکھنے کی ضرورت نہ پڑے۔

نئے انٹرفیس میں ایک دلچسپ Discovery فیچر بھی شامل کیا گیا ہے، جو یہ دکھاتا ہے کہ دوسرے لوگ اس وقت کیا تخلیق کر رہے ہیں، مثلاً ہالیڈے کارڈز بنانا، تصاویر سے پس منظر ہٹانا، یا خود کو مشہور پینٹنگز کے انداز میں تبدیل کرنا۔ اس کا مقصد ان صارفین کو تحریک دینا ہے جو یہ نہیں جانتے کہ کہاں سے آغاز کریں۔ یہ واضح طور پر OpenAI کی اس حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے کہ AI کو صرف ماہرین کے لیے نہیں بلکہ عام صارفین کے لیے بھی آسان بنایا جائے۔

ایک اور خاموش مگر نہایت طاقتور فیچر likeness retention ہے، جس میں صارف ایک بار اپنی تصویر اپ لوڈ کر کے ChatGPT کو اپنی شکل سکھا سکتا ہے، اور پھر آئندہ امیج جنریشن میں بار بار تصاویر اپ لوڈ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اگرچہ یہ فیچر ابھی سب کو نظر نہیں آ رہا، مگر OpenAI کے اپنے مواد میں اس کا ذکر موجود ہے۔ یہ خصوصیت خاص طور پر یوٹیوب تھمب نیلز، برانڈنگ اور بار بار ایک ہی کردار استعمال کرنے والوں کے لیے وقت بچانے والی ثابت ہو سکتی ہے۔

عملی استعمال کے لحاظ سے GPT Image 1.5 کی سب سے بڑی طاقت اس کی precise editing صلاحیت ہے۔ یہ ماڈل تصاویر میں عناصر شامل کرنے، ہٹانے، مختلف اسٹائلز کو ملانے، اور روشنی و کمپوزیشن برقرار رکھتے ہوئے تبدیلیاں کرنے میں کہیں زیادہ مستحکم ہے۔ ماضی میں جہاں ملٹی اسٹیپ ایڈیٹنگ چند مراحل بعد بکھر جاتی تھی، اب ماڈل پورے عمل کا سیاق و سباق یاد رکھتا ہے۔ اسی طرح ہدایات پر عمل کرنے کی صلاحیت، گرڈ جیسے پیچیدہ بصری آرڈرز، اور متن کی درست رینڈرنگ میں بھی نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ GPT Image 1.5 محض ایک نیا امیج ماڈل نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ OpenAI اس میدان میں گوگل کو کھلا میدان دینے کے موڈ میں نہیں۔ تیز رفتار جنریشن، کم لاگت، بہتر ایڈیٹنگ اور عام صارفین کے لیے آسان انٹرفیس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے وقت میں AI کے ذریعے تصویر بنانا اتنا ہی معمول بن سکتا ہے جتنا آج ٹیکسٹ لکھنا ہے۔یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر شیئر کی گئی ہے۔
#AIKiDuniya, #OpenAI, #GPTImage15, #AIImages, #GenerativeAI, #FutureOfAI, #ChatGPT

اس تحریر پر فیس بک پر تبصرہ کریں

مزید پڑھیں