مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن تبدیلی سامنے آ چکی ہے، جہاں اوپن سورس اے آئی کی قیادت اب مکمل طور پر چین کے ہاتھ میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ آزاد بینچ مارکنگ ڈیٹا کے مطابق اس وقت اوپن اے آئی ماڈلز کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست تمام چھ مقامات چینی لیبارٹریز کے پاس ہیں، جبکہ عالمی سطح پر اے آئی کے استعمال میں بھی ان ماڈلز کا حصہ تیزی سے بڑھ کر تقریباً تیس فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ یہ پیش رفت محض تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ طاقت کے توازن میں ایک واضح تبدیلی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
آزاد تجزیاتی ادارے Artificial Analysis کے مطابق چینی ماڈلز جیسے Moonshot AI کا Kimi K2.5، Zhipu AI کا GLM-4.7 اور DeepSeek کا V3.2 اس وقت تمام اوپن سورس حریفوں سے آگے ہیں۔ تازہ ترین لیڈر بورڈ میں Kimi K2.5 اور GLM-4.7 کو برابر کی ذہانت کے ساتھ سب سے طاقتور اوپن سورس ماڈلز قرار دیا گیا ہے، جبکہ DeepSeek V3.2 اور Kimi K2 Thinking ان کے بالکل قریب کھڑے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اوپن سورس ماڈلز پہلی بار بند سورس دیو ہیکل سسٹمز کے برابر سمجھے جا رہے ہیں۔
Kimi K2.5 کو بیجنگ میں قائم Moonshot AI نے جنوری کے آخر میں متعارف کرایا، جس میں ایک ٹریلین پیرامیٹرز شامل ہیں اور اسے پندرہ ٹریلین سے زائد بصری اور متنی ٹوکنز پر تربیت دی گئی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ماڈل کئی معیارات پر OpenAI کے جدید ماڈلز سے بہتر کارکردگی دکھاتا ہے اور کوڈنگ و ویڈیو سمجھنے جیسے شعبوں میں Google اور Anthropic کے بند سورس ماڈلز کے برابر آ چکا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں اوپن سورس اور بند سورس کے درمیان فرق دھندلا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
اعداد و شمار اس تبدیلی کی رفتار کو مزید واضح کرتے ہیں۔ OpenRouter اور وینچر کیپیٹل فرم Andreessen Horowitz کی رپورٹ کے مطابق چینی اوپن سورس ماڈلز کا عالمی استعمال 2024 کے آخر میں محض ایک اعشاریہ دو فیصد تھا، جو 2025 کے اختتام تک بڑھ کر تقریباً تیس فیصد تک پہنچ گیا۔ Andreessen Horowitz کے جنرل پارٹنر مارٹن کاساڈو کے مطابق اوپن سورس ماڈلز استعمال کرنے والے تقریباً اسی فیصد اے آئی اسٹارٹ اپس اب چینی ماڈلز پر انحصار کر رہے ہیں، جو امریکی ماحولیاتی نظام کے لیے ایک سنجیدہ لمحہ ہے۔
اسی دوران چین میں قمری نئے سال سے پہلے بڑے ماڈلز کی ریلیز کی دوڑ بھی جاری ہے۔ Zhipu AI آئندہ ہفتوں میں GLM-5 متعارف کرانے کی تیاری میں ہے، MiniMax اپنے M2.2 ماڈل کو کوڈنگ پر مرکوز بہتریوں کے ساتھ سامنے لانے والا ہے، جبکہ Alibaba نے Qwen3-Max-Thinking جاری کر دیا ہے۔ دوسری جانب Baidu نے Ernie 5.0 متعارف کرایا ہے، جو دو اعشاریہ چار ٹریلین پیرامیٹرز پر مشتمل ایک ہمہ جہت ماڈل ہے اور چینی ماڈلز میں سب سے آگے شمار ہو رہا ہے۔
اس پیش رفت نے امریکہ میں قائم اے آئی اسٹارٹ اپس کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سان فرانسسکو میں قائم Arcee AI دو سو ملین ڈالر سے زائد فنڈنگ اکٹھی کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ امریکی اوپن سورس ماڈلز کو دوبارہ مقابلے میں لایا جا سکے۔ اسی طرح Reflection AI نے گزشتہ برس اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جس میں Nvidia جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ اس کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ اس وقت اوپن سورس میں سب سے نمایاں پیش رفت چین ہی سے آ رہی ہے۔
یہ صورتحال واضح اشارہ دیتی ہے کہ مصنوعی ذہانت میں مقابلہ اب صرف ماڈلز کا نہیں رہا بلکہ پورے ماحولیاتی نظام، رفتار، کھلے پن اور عالمی اختیار کا ہے۔ چین کی اوپن سورس حکمتِ عملی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ طاقتور اے آئی صرف بند دروازوں کے پیچھے نہیں بنتی، اور آنے والے برسوں میں یہ سوال مزید اہم ہو جائے گا کہ عالمی ڈیجیٹل مستقبل کی بنیاد کہاں رکھی جا رہی ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #OpenSourceAI, #ChinaAI, #GlobalTech, #FutureOfAI