مصنوعی ذہانت کی دنیا تیزی سے ایک نئی سمت میں جا رہی ہے جہاں طاقتور اے آئی ماڈلز کو براہ راست موبائل فون پر چلانا ممکن بنایا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ملٹی ورس کمپیوٹنگ نے “کمپیکٹیف اے آئی ایپ” متعارف کرائی ہے جو کوانٹم سے متاثرہ کمپریشن ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے اے آئی ماڈلز کو انتہائی چھوٹا بنا دیتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس طریقے سے ماڈلز کو تقریباً 95 فیصد تک کمپریس کیا جا سکتا ہے جبکہ کارکردگی میں صرف 2 سے 3 فیصد تک کمی آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہی اے آئی ماڈلز جو پہلے صرف طاقتور سرورز یا کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر چلتے تھے اب اسمارٹ فون جیسے چھوٹے آلات پر بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپیکٹیف اے آئی اکیلا حل نہیں ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں کئی ایسی ایپس اور پلیٹ فارمز سامنے آ رہے ہیں جو لوکل اے آئی یا آف لائن اے آئی کے تصور کو حقیقت بنا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر MLC Chat موبائل پر مختلف اوپن سورس اے آئی ماڈلز کو آف لائن چلانے کی سہولت دیتا ہے۔ اسی طرح Locally AI اور Secret AI جیسی ایپس بھی صارفین کو یہ امکان فراہم کرتی ہیں کہ وہ چیٹ بوٹس اور اے آئی فیچرز کو بغیر انٹرنیٹ کے استعمال کر سکیں جبکہ ان کا ڈیٹا فون سے باہر نہ جائے۔ کچھ تجرباتی پلیٹ فارمز جیسے گوگل کا AI Edge بھی موبائل ڈیوائس پر براہ راست اے آئی ماڈلز چلانے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی اہمیت پرائیویسی، رفتار اور خود مختاری میں ہے۔ جب اے آئی ماڈلز موبائل پر ہی چلتے ہیں تو صارف کا ڈیٹا کلاؤڈ سرورز تک نہیں جاتا، جس سے حساس معلومات محفوظ رہتی ہیں۔ اسی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت، دفاع اور فیلڈ آپریشنز جیسے شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کی بڑی مانگ پیدا ہو سکتی ہے جہاں ہر وقت انٹرنیٹ دستیاب نہیں ہوتا۔
کئی ایپس ہائبرڈ ماڈل بھی استعمال کر رہی ہیں جہاں سادہ کام موبائل پر ہی انجام دیے جاتے ہیں جبکہ پیچیدہ سوالات کلاؤڈ اے پی آئیز کی طرف بھیجے جاتے ہیں۔ اس طرح موبائل ڈیوائس کی رفتار اور کلاؤڈ کی طاقت دونوں کا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو مستقبل میں ممکن ہے کہ ہر اسمارٹ فون میں طاقتور اے آئی ماڈلز پہلے سے موجود ہوں اور بہت سے کاموں کے لیے انٹرنیٹ کی ضرورت ہی نہ رہے۔ دوسرے لفظوں میں آنے والے وقت میں “اے آئی انٹرنیٹ پر نہیں بلکہ آپ کی جیب میں ہوگا۔”
ایپ کے لنکس کمنٹس میں دیے جا سکتے ہیں۔ اگر کچھ ایپس آپ کو ایپ اسٹور پر نظر نہ آئیں تو بعض اوقات ریجن کی وجہ سے وی پی این استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #OfflineAI, #AIMobile, #FutureTechnology, #AIApps