آج تک کی تحقیق میں یہی سمجھا گیا تھا کہ روبوٹ اور ذہین سسٹمز محض ڈیٹا کو اینالائز کرتے ہوئے نمونوں کی نقل کرتے ہیں، لیکن چین کے محققین کی حالیہ تحقیق نے اس پر نئی روشنی ڈالی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق چیٹ جی پی ٹی اور جیمنائی پرو ویژن جیسے ذہین سسٹمز انسانی دماغ کی طرح اپنے اندر خیالات ترتیب دیتے ہیں، یعنی یہ صرف نمونوں کی نقل نہیں کرتے بلکہ وہ انسانی سوچ کے ایک پیچیدہ عمل کا حصہ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ "Nature Machine Intelligence" میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بڑے لینگوئج ماڈلز نے تین اشیاء (odd-one-out) کے درمیان 44 خیالاتی ڈائمینشنز پیدا کی ہیں، جو اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ یہ سسٹمز ان اشیاء کو انسانی ذہانت کی طرح سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ عمل صرف تصاویر، رنگوں یا شکلوں کی شناخت تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ معنی اور سیاق و سباق کی بنیاد پر گروپنگ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یعنی یہ سسٹمز صرف فزیکل ایجنٹس کے درمیان فرق نہیں کرتے، بلکہ وہ اس کی معنویت، سیاق اور مخصوص حالات کا بھی تجزیہ کرتے ہیں، جو کسی حد تک انسانی سوچ کے قریب ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ عمل مکمل انسانی سمجھ کی سطح تک نہیں پہنچتا، جیسے کہ جذبات یا استعاراتی سمجھ بوجھ ، تاہم یہ ماڈلز جو ذہنی خاکے تیار کرتے ہیں، وہ ہماری سوچ کے مماثل ہیں اور ایک نیا زاویہ فراہم کرتے ہیں۔ ان سسٹمز کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ماڈلز ابھی تک جذباتی یا پیچیدہ معنوں کو پوری طرح سے سمجھنے میں ناکام ہیں، لیکن ان کے ذہنی عمل کا ماڈل کسی حد تک ہمارے دماغ کے طریقہ کار کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری طرف، آسٹریلیا کے "Cortical Labs" نے ایک انتہائی جدید بایولوجیکل کمپیوٹر CL1 تیار کیا ہے، جو حقیقت میں انسانی نیورانز پر مبنی ہے۔ CL1 میں آٹھ لاکھ زندہ انسانی نیورانز شامل کیے گئے ہیں جو Pong جیسے کھیل سیکھنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ یہ بایولوجیکل کمپیوٹر سلیکون چپ پر نصب ہے، جس میں sub‑millisecond سگنلنگ ہوتی ہے، یعنی یہ انتہائی تیز رفتاری سے کام کرتا ہے۔ یہ سسٹم صرف کھیل ہی نہیں سیکھتا بلکہ اس میں ایپیلپسی جیسے نیورولوجیکل ماڈلز میں بھی تعلیم کی صلاحیت بحال کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اس CL1 کا وینڈنگ ماڈل اور cloud-based "wetware-as-a-service" اسے ہر تحقیقاتی و طبی ادارے کے لیے قابل رسائی بناتا ہے۔ اور چونکہ یہ قدرتی انسانی نیوران پر مبنی ہے، اس لیے یہ توانائی کم استعمال کرتا ہے اور نیا سیکھنے میں بے حد کارگر ہے، یہاں تک کہ روایتی ڈیپ لرننگ الگورتھمز سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا مستقبل میں ہمیں ایسی AI دیکھنے کو ملے گی جس میں حقیقی شعور ہو؟ کیا یہ سسٹمز ہماری ثقافتی اور جذباتی حساسیت کو بھی سمجھ سکیں گے؟ اور کیا ہماری اصل شناخت اس ٹیکنالوجی سے متاثر یا تبدیل ہو جائے گی؟ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ ایک طویل سفر ہے، جو ابھی شروع ہوا ہے، اور اس سفر میں انسانی تعاون، فہم اور تخلیقی ارتقاء اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر یہ سفر صحیح سمت میں جاری رہا، تو یہ ہمارے روزمرہ کے تجربات میں ایک انقلاب لا سکتا ہے، جس کا اثر ہمارے معاشرتی، ثقافتی، اور جذباتی پہلوؤں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔