مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک بار پھر AGI کا تصور مرکزِ بحث بن چکا ہے، مگر اس بار سوال یہ نہیں کہ AGI کب آئے گی، بلکہ یہ کہ کیا وہ بعض شعبوں میں پہلے ہی آ چکی ہے؟ امریکی AI کمپنی Anthropic کی صدر Daniela Amodei نے حالیہ انٹرویو میں اسی روایتی سوچ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر AGI کو مخصوص تعریفوں کے تحت دیکھا جائے تو بعض محدود شعبوں میں یہ ہدف پہلے ہی حاصل ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں AGI کی اصطلاح اس لیے مفید سمجھی جاتی تھی کہ اس کے ذریعے یہ ناپا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت کب انسان کے برابر صلاحیت حاصل کرے گی۔ مگر اب صورتحال بدل چکی ہے۔ ان کے مطابق، بعض پیمانوں پر جدید AI نظام انسانی سطح سے آگے نکل چکے ہیں، جس کی وجہ سے AGI کی روایتی تعریف خود سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ ان کے الفاظ میں، مسئلہ یہ نہیں کہ AGI غلط تصور ہے، بلکہ یہ کہ یہ تصور اب پرانا ہو چکا ہے۔
بطور مثال، انہوں نے پروگرامنگ اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کا حوالہ دیا، جہاں Anthropic کا ماڈل Claude اس حد تک بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے کہ وہ کمپنی کے اپنے کئی انجینیئرز کے برابر یا بعض صورتوں میں بہتر کوڈ لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس اعتراف کے ساتھ انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ Claude ابھی انسان کی طرح ہر کام انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا، مگر کچھ مخصوص شعبوں میں اس کی کارکردگی انسانی معیار سے آگے جا چکی ہے۔
انتھروپک کی اندرونی تحقیق کے مطابق، کمپنی کے انجینیئر اب اپنی روزمرہ پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا تقریباً ساٹھ فیصد Claude کی مدد سے انجام دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مجموعی پیداواری صلاحیت میں پچاس فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ اضافہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ AI اب محض تجرباتی ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ عملی طور پر کام کے طریقے بدل رہی ہے۔ دسمبر 2025 میں Claude Opus 4.5 نے SWE-Bench Verified جیسے سخت معیار پر اسی فیصد سے زائد درستگی حاصل کر کے ایک نمایاں سنگِ میل عبور کیا، جو حقیقی دنیا کے سافٹ ویئر انجینیئرنگ مسائل پر AI کی صلاحیت کو جانچتا ہے۔
اس تمام پیش رفت کے پیچھے Anthropic کی حکمتِ عملی بھی غیر معمولی ہے۔ Daniela Amodei کے مطابق، کمپنی نے ہمیشہ اپنے حریفوں کے مقابلے میں کم کمپیوٹ اور کم سرمایہ استعمال کیا، مگر اس کے باوجود کئی برسوں تک انتہائی طاقتور اور مؤثر ماڈلز تیار کرنے میں کامیاب رہی۔ یہ بیان بالواسطہ طور پر اس صنعت کے بڑے کھلاڑیوں، خصوصاً OpenAI، کی بھاری انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے پس منظر میں دیا گیا، جو اس وقت سینکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
تاہم، اس تیز رفتار ترقی کے باوجود غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ Daniela Amodei نے اعتراف کیا کہ ٹیکنالوجی میں ترقی ہمیشہ خطی یا لامحدود نہیں رہتی۔ ان کے مطابق، تکنیکی صلاحیتیں تو مسلسل بڑھ رہی ہیں، مگر معاشی اور تنظیمی سطح پر ان کا نفاذ اکثر سست روی کا شکار ہو جاتا ہے، جہاں ادارہ جاتی فیصلے، خریداری کے عمل اور تبدیلی کے انتظامی مسائل رکاوٹ بنتے ہیں۔
اس پوری بحث کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اگر محدود دائرے میں AGI جیسی صلاحیتیں حقیقت بن چکی ہیں، تو سوال یہ نہیں رہتا کہ یہ کب آئے گی، بلکہ یہ کہ ہم اس کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔ Daniela Amodei کے مطابق، دنیا کو اس امکان کے لیے ذہنی، معاشی اور سماجی طور پر تیار رہنا چاہیے کہ AI نظام وقت کے ساتھ مزید طاقتور اور خودمختار ہوتے جائیں گے۔ یہ بحث محض اصطلاحات کی نہیں، بلکہ مستقبل کی سمت طے کرنے کا معاملہ ہے۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #AGI, #ArtificialIntelligence, #Anthropic, #ClaudeAI, #FutureOfAI, #TechAnalysis, #AIDevelopment, #AIResearch