امریکہ میں “Anthropic” کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈاریو آموڈےئی نے حال ہی میں ایک بیان دیا ہے جس نے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں سنجیدہ فکری بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں ذہین نظام، خاص طور پر “جنریٹیو اے آئی” جیسے ماڈلز، ابتدائی سطح کی وائٹ کالر ملازمتوں کا تقریباً 50 فیصد حصہ نگل سکتے ہیں۔ ان کے بقول اگر یہی رفتار برقرار رہی تو ہم بیس فیصد تک کی بےروزگاری کی ایک خطرناک لہر کا سامنا کر سکتے ہیں۔ یہ وہ پیشگوئی ہے جو کسی عام ناقد یا فلسفی کی نہیں، بلکہ خود ایک AI کمپنی کے سربراہ کی زبان سے نکلی ہے ، جو اس صنعت کے اندر بیٹھ کر اس کے مستقبل کو بنتے دیکھ رہا ہے۔
اس بیان کی سنگینی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب ہم سمجھتے ہیں کہ وائٹ کالر ملازمتیں محض دفتر میں بیٹھ کر ڈیٹا درج کرنے یا ای میل کا جواب دینے کا نام نہیں۔ ان میں تجزیہ کار، منیجر، ایڈمنسٹریٹر، کسٹمر سروس ایجنٹس، یہاں تک کہ ابتدائی سطح کے وکلا اور اکاؤنٹنٹس بھی شامل ہوتے ہیں۔ جب ایک ذہین ماڈل، چند سیکنڈز میں معاہدہ پڑھ سکتا ہے، رپورٹ لکھ سکتا ہے یا گاہک سے بہتر انداز میں بات کر سکتا ہے ، تو سوال یہ نہیں کہ کیا یہ ممکن ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ کب اور کیسے ہوگا؟
ڈاریو آموڈےئی نے صرف ایک پیشگوئی نہیں کی، بلکہ پالیسی سازوں کو خبردار بھی کیا ہے۔ انہوں نے حکومتوں، اداروں اور سوسائٹی پر زور دیا ہے کہ وہ اس خطرے کو سنجیدگی سے لیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم ان تبدیلیوں کو صرف سراہنے کے بجائے ان کے مضمرات کا ادراک بھی کریں۔ مشینیں اگر ہماری جگہ لینے والی ہیں تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام، فنی تربیت، لیبر قوانین اور سماجی تحفظ کے نیٹ ورک کو از سر نو ترتیب دینا ہوگا۔
یہ محض ایک فنی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک وجودی سوال ہے۔ اگر ہمارے نوجوان، محنتی اور تعلیم یافتہ لوگ اپنے مستقبل کو مشینوں کے رحم و کرم پر پائیں گے، تو مایوسی، معاشرتی تناؤ اور ذہنی امراض کی شرح میں اضافہ ہوگا۔ ترقی ہمیشہ خیر نہیں ہوتی ، کبھی کبھار ترقی کا مطلب پیچھے رہ جانے والوں کو پھر سے تھامنا بھی ہوتا ہے۔
آج کا لمحہ صرف ایک انتباہ نہیں، ایک دعوت فکر بھی ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم اس ذہین دنیا میں محض تماشائی بنیں گے یا باشعور رہنما؟
“یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔”