سائنسی جریدے Science میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق امریکا میں لکھا جانے والا تقریباً ایک تہائی نیا کوڈ اب اے آئی کی مدد سے تیار ہو رہا ہے۔ یہ مطالعہ ویانا میں قائم Complexity Science Hub کی قیادت میں کیا گیا، جس میں Utrecht University اور Corvinus University of Budapest کے محققین بھی شامل تھے۔ تحقیق میں گِٹ ہب پر موجود پچاس لاکھ سے زائد پائتھن ریپوزٹریز کا تجزیہ کیا گیا، جن میں تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار ڈیولپرز کی تیس ملین سے زیادہ کوڈ کنٹری بیوشنز شامل تھیں۔ نتائج کے مطابق امریکا میں اے آئی اسسٹڈ کوڈنگ 2022 میں پانچ فیصد کے قریب تھی، جو 2024 کے اختتام تک بڑھ کر انتیس فیصد تک پہنچ گئی، جسے محققین نے انتہائی تیز رفتار پھیلاؤ قرار دیا ہے۔
معاشی سطح پر اس کے اثرات بھی غیر معمولی ہیں۔ امریکا میں کوڈنگ سے متعلق کام پر سالانہ چھ سو سینتیس ارب سے ایک ٹریلین ڈالر سے زائد اجرت ادا کی جاتی ہے، اور تحقیق کے مطابق اے آئی کوڈنگ اسسٹنٹس پہلے ہی ہر سال تئیس سے اڑتیس ارب ڈالر تک کی اضافی قدر پیدا کر رہے ہیں۔ کمپلیکسٹی سائنس ہب کے محقق فرینک نیفکے کے مطابق 2024 کے اختتام تک جنریٹو اے آئی کا معاشی اثر واضح ہو چکا تھا اور امکان ہے کہ اب یہ اثر مزید بڑھ چکا ہو۔
یہ نتائج بڑی ٹیک کمپنیوں کے بیانات سے بھی ہم آہنگ ہیں۔ Microsoft کے سی ای او Satya Nadella کے مطابق کمپنی کے تقریباً تیس فیصد کوڈ میں اے آئی کا کردار ہے، جبکہ Google کے سی ای او Sundar Pichai پہلے ہی یہ بتا چکے ہیں کہ گوگل کا پچیس فیصد سے زائد نیا کوڈ اے آئی سسٹمز کے ذریعے تیار ہو رہا ہے۔
تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اے آئی سے سب سے زیادہ فائدہ کن پروگرامرز کو ہو رہا ہے، نہ کہ نئے سیکھنے والوں کو۔ اگرچہ کم تجربہ رکھنے والے ڈیولپرز اپنے کوڈ کا زیادہ حصہ اے آئی سے لکھواتے ہیں، مگر حقیقی پیداواری اضافہ صرف تجربہ کار پروگرامرز میں دیکھا گیا۔ تحقیق کے مطابق تجربہ کار ڈیولپرز کی پیداوار میں اوسطاً چھ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ابتدائی سطح کے پروگرامرز میں کوئی نمایاں بہتری ریکارڈ نہیں کی گئی۔
عالمی سطح پر بھی فرق نمایاں ہے۔ امریکا انتیس فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے، اس کے بعد فرانس اور جرمنی ہیں، جبکہ بھارت تیزی سے بیس فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ چین اور روس میں اے آئی کوڈنگ کا استعمال نسبتاً کم ہے، جس کی ایک وجہ ماڈلز تک محدود رسائی بتائی گئی ہے۔ محققین کے مطابق اصل سوال اب یہ نہیں رہا کہ اے آئی استعمال ہو گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے فوائد کو کس طرح اس انداز میں پھیلایا جائے کہ عدم مساوات میں اضافہ نہ ہو۔
یہ تحریر اے آئی کی دنیا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے
#AiKiDuniya, #ArtificialIntelligence, #AICoding, #SoftwareDevelopment, #FutureOfWork, #TechResearch, #AIProductivity